بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

عدت کے اندر مطلقہ عورت کی وفات کی صورت میں شوہر کا استحقاقِ میراث


سوال

اگر شوہر بیوی کو طلاق دے ، اور بیوی عدت میں ہو، اور اسی عدت میں بیوی فوت ہوجائے، تو کیا اس صورت میں شوہر اپنی بیوی کے میراث کا مستحق ہوگا یا نہیں؟

جواب

فقہی اعتبار سے  طلاق دینے کی دو صورتیں ہیں:رجعی اور بائن یا مغلظ، اور شوہر کبھی  حالتِ صحت میں بیوی کو طلاق دیتا ہے اور کبھی حالتِ مرض میں۔ چنانچہ اگر  شوہر نے  طلاق رجعی دی ہوتو اس صورت میں دونوں میاں بیوی  دوران عدت ایک دوسرےسے میراث لینے کے مستحق ہوں گے خواہ طلاق حالت ِصحت میں دی ہو یا حالتِ مرض میں۔ اوردوسری صورت میں جب شوہر نے طلاق بائن دی ہو خواہ ایک ہو یا تین ، تو  اگر طلاق حالتِ صحت میں دی ہو تو  دوران عدت دونوں میاں بیوی ایک دوسرےسے  میراث لینے کے مستحق نہیں ہوں گے ، اور اگر حالت مرض میں دی ہو تو اس کی دو صورتیں ہیں یا تو بیوی کی رضا اور مطالبہ پر شوہر نے طلاق دی ہوگی یا نہیں  اگر اس کی رضا و مطالبہ سے دی ہو تو دونوں ایک دوسرے سے میراث میں حصہ نہیں لے سکتے جبکہ دوسری صورت میں بیوی شوہر  سے میراث لینے کی مستحق ہوگی جب کہ شوہر بیوی کے میراث کا مستحق نہیں ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر بیوی طلاق رجعی کی عدت میں فوت ہوئی ہو تو شوہر اس کے میراث میں حصہ کا مستحق ہے۔ اور اگر طلاق بائن یا مغلظ کی عدت میں فوت ہوئی  ہو تو پھر شوہر بیوی کے میراث کا مستحق نہیں ، خواہ حالتِ صحت میں طلاق دی ہو یا حالت مرض میں اور خواہ بیوی کے مطالبے اور رضامندی پر دی ہو یا بغیر مطالبے اور رضامندی کے دی ہو۔

 

" منها الإرث عند الموت وجملة الكلام فيه أن المعتدة لا تخلو إما إن كانت من طلاق رجعي وإما إن كانت من طلاق بائن أو ثلاث والحال لا يخلو إما إن كانت حال الصحة وإما إن كانت حال المرض فإن كانت العدة من طلاق رجعي فمات أحد الزوجين قبل انقضاء العدة ورثه الآخر بلا خلاف سواء كان الطلاق في حال المرض أو في حال الصحة؛ لأن الطلاق الرجعي منه لا يزيل النكاح فكانت الزوجية بعد الطلاق قبل انقضاء العدة قائمة من وجه والنكاح القائم من كل وجه سبب لاستحقاق الإرث من الجانبين كما لو مات أحدهما قبل الطلاق، وسواء كان الطلاق بغير رضاها أو برضاها فإن ما رضيت به ليس بسبب لبطلان النكاح حتى يكون رضا ببطلان حقها في الميراث، وسواء كانت المرأة حرة مسلمة وقت الطلاق أو مملوكة أو كتابية ثم أعتقت أو أسلمت في العدة؛ لأن النكاح بعد الطلاق قائم من كل وجه ما دامت العدة قائمة وأنه سبب لاستحقاق الإرث.

‌وإن ‌كانت ‌من ‌طلاق ‌بائن أو ثلاث فإن كان ذلك في حال الصحة فمات أحدهما لم يرثه صاحبه سواء كان الطلاق برضاها أو بغير رضاها، وإن كان في حال المرض فإن كان برضاها لا ترث بالإجماع، وإن كان بغير رضاها فإنها ترث من زوجها عندناومعرفة هذه المسألة مبنية على معرفة سبب استحقاق الإرث وشرط الاستحقاق ووقته. . . وإن كانت هذه الأسباب في حال المرض فهو على الاختلاف الذي ذكرنا في الطلاق أنها ترث منه عندنا خلافا للشافعي، ‌ولا ‌يرث ‌هو ‌منها بالإجماع.(بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع، كتاب الطلاق، فصل في أحكام العدة، ج:3، ص204)


فتویٰ نمبر : 3554/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں