بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

مشترکہ گھر مہر میں دینے کا حکم


سوال

 کیا شوہر بیوی کو ایسا گھر مہر میں دے سکتا ہے جو شوہر اور اس کے خاندان والوں کے مابین مشترک ہو ؟

جواب

واضح رہے کہ مہر  عورت کا  حق ہے جس کی ادائیگی شوہر پر لازم ہے ۔ اگر شوہر نے مہر میں کو ئی متعین چیز مقرر کی ہو تو شوہر پر اس متعین چیز کی ادائیگی لازم ہو گی ۔اب اگر  مہر کی ادائیگی سے پہلے متعین چیز  ضائع ہو جائے یا اس کا کوئی مستحق نکل آئے  تو اگر یہ چیز ذوات الامثال میں سے ہے تو شوہر پر اس چیز کی مثل لازم آئے گی اور  اگر ذوات الامثال میں سے نہ ہو تو شوہر پر اس چیز کی قیمت ادا کرنا لازم ہو گی ۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر کوئی شخص بیوی کو ایسا گھر مہر میں دے جو اس کے اوراس کے خاندان والوں کے مابین مشترک ہو تو اگر خاندان والے  اپنی خوشی سے مفت یا   بالعوض وہ گھر دینے پر راضی ہوں  تو  شوہر پربعینہ یہ گھر مہر میں اداکرنا  ضروری ہے لیکن  اگر وہ  گھر دینے کو تیار نہ ہوں تو شوہر پر اس گھر کی قیمت ادا کرنا لازم ہے ۔

 

لو تزوجها على شيء بعينه وهلك قبل التسليم أو استحق ‌فإن ‌كان ‌ذلك ‌من ‌ذوات ‌الأمثال ‌رجعت ‌على ‌الزوج بالمثل وإلا فبالقيمة. (الفتاوى الهندية،كتاب النكاح ،الباب السابع فى المهر، الفصل التاسع في هلاك المهر،ج:1/ص:316)

وإذا تزوجها على هذا العبد وهو ملك الغير أو على هذه الدار وهي ملك الغير فالنكاح جائز والتسمية صحيحة فبعد ذلك ينظر إن أجاز صاحب الدار وصاحب العبد ذلك فلها عين المسمى، وإن لم يجز المستحق لا يبطل النكاح ‌ولا ‌التسمية ‌حتى ‌لا ‌يجب ‌مهر ‌المثل وإنما تجب قيمة المسمى.( الفتاوى الهندية ، كتاب النكاح ، الباب السابع فى المهر ، الفصل الاول،ج:1/ص:331)


فتویٰ نمبر : 6875/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں