بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

حروف تہجی کے پرنٹ والے کپڑے پہننے كاحكم


سوال

کیا اس طرح کے کپڑے پہننا جائز ہے، جن پر اردو حروف تہجی (الف، ب،ت)بنے ہوئے ہوں؟

جواب

واضح رہے  کہ اگر کپڑوں پر حروف لکھے ہوں لیکن اس سے کسی مقدس نام کی بے ادبی نہ ہورہی ہو  تو ایسے کپڑے پہننے میں کوئی حرج نہیں ہے۔ البتہ اگر کسی کپڑے پر لکھے گئے حروف توہین آمیز ہوں  یا  ان  سےکسی شعائراللہ کی بے ادبی  کا اندیشہ   ہوتو ایسے کپڑوں کااستعمال کرنا   جائز نہیں،لیکن اگر اس میں توہین کا کوئی پہلو نہ ہوتو پھر اس کا استعمال جا ئز ہےتاہم عربی زبان کے حروف تہجی زیادہ  قا بل احترام ہیں  اس لیے ان  حروف کو ایسی جگہ لکھنا جس سے ان کی بے ادبی کا اندیشہ ہو ،  کراہت سے خالی نہیں ۔

 

أن ‌الأصل ‌في ‌الأشياء ‌الإباحة.(المبسوط للسرخسي، ج:24، ص:77)

إذاكتب ‌اسم ‌فرعون ‌أو‌كتب أبوجهل على غرض يكره أن يرمواإليه؛لأن لتلك الحروف حرمة،كذافي السراجية. (الهندية،ج:5، ص:374)

ويكره أن يجعل شيئافي كاغذة فيهااسم الله تعالى كانت الكتابة على ظاهرهاأوباطنها.(الهندية،ج:5، ص:322)

قلت:‌لكن ‌نقلوا ‌عندنا‌أن ‌للحروف ‌حرمة ولو مقطعة.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،ج:1، ص:552)


فتویٰ نمبر : 5716/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں