بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

اپنا فارمیسی کا لائسنس کسی اور کودے کر اس سے اجرت لینا


سوال

کیاایک فارماسٹ PHARM.D((Catogory B pharmacyیا Pharamcistکوالیفائیڈاپنالائسنس گورنمنٹ کے قانون وضابطے  کے مطابق دوسرے انسان کودو سال تک اپنی فارمیسی چلانے کے لئے دے سکتاہے، فارماسٹ لائسنس والےکوباقاعدہ فیس(رقم)ملتی ہے۔ کیا شریعت کے مطابق یہ  جائز ہے یا نہیں، یہ ساری دو سال کی حصولی ایڈوانس ہوتی ہے۔یہی سوال سول /الیکٹریکل انجنئیر کا ہے جو اپنا لائسنس کسٹرکشن کمپنی والے کو سال یا دوسال کی مدت کے لئے دیتے ہیں اور رقم ایڈوانس وصول کرتے ہیں۔

جواب

 واضح رہے کہ  کسی بھی شعبے کا لائسنس جو کسی شخص کو حکومت کی طرف سے جاری کیا جاتا ہے،وہ اس شخص کے لیے اس شعبے میں کام کرنے کا اجازت نامہ ہوتا ہے،کسی اورکے لیے اس لائسنس کو استعمال کرنے کی قانوناً اجازت نہیں ہوتی  اور حکومت کی ایسی جائز پابندیاں  جو مفاد عامہ کے لئے ہوں ان کی پاسداری کرنا شرعا بھی لازم ہوتاہے اور اس کی خلاف ورزی   جائز نہیں ہوتی، لہذا فارمیسی چلانے کے لیے لائسنس کی قانونی شرط چونکہ عوامی مصلحت کی خاطر لگائی گئی ہے،تاکہ کوئی ایسا شخص فارمیسی نہ چلا سکے جو ادویات  کی پوری پہچان نہ رکھتا ہو،کیونکہ  غیر تربیت یافتہ شخص کے فارمیسی  چلانے کی وجہ سے لوگوں کی صحت اور زندگیوں کو سنگین قسم کے خطرات لاحق ہو  سکتے ہیں،اس لیے فارمیسی   چلانے  کے لیے لائسنس کا اہتمام ضروری ہے۔

صورت مسئولہ میں  فارمیسی لائسنس جس کے لیے گورنمنٹ نے جاری کیا ہو، اس کے علاوہ کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں ، نیز یہ اجازت نامہ کوئی ایسا مال نہیں ہے جس کو کرایہ پر دیا جاسکے یا فروخت کیا جاسکے، اس لیے اس کو کرایہ پر دینا اور لینا ناجائز ہے۔ اور محض لائسنس کی وجہ سے اس کی تنخواہ لینا جائز نہیں،کیونکہ لائسنس  حکومت کی طرف سے ایک اجازت نامہ ہے کوئی مال نہیں جس کو اجارہ پر دیا جاسکے۔

 

قال اللہ تعالی: ﴿وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾(سورةالمائدة،آيت نمبر:2)

وقال تعالی: ﴿وَاجْتَنِبُوا قَوْلَ الزُّورِ﴾(سورة الحج،آيت نمبر:30)

والأجرة انما تكون في مقابلة العمل.(ردالمحتارعلى الدر المختار،كتاب النكاح،مطلب:أنفق على معتدةالغير،ج4،ص305)

تصرف الإمام على الرعية منوط بالمصلحة.(الأشباه والنظائر لابن نجيم،القاعدة الخامسة، ص:62)


فتویٰ نمبر : 3484/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں