بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بہن کے قتل میں ماں باپ کاقاتل کو معاف کرنے کا حکم


سوال

ایک آدمی نے اپنی بہن کو قتل کیا اور ماں باپ نے قاتل کو معاف کیا تو قاتل کو معاف کرنے کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کوئی قتل کرے اور مقتول کے ورثاء میں سے کوئی ایک  قاتل کو معاف کرے تو اس صورت میں قاتل سے قصاص ساقط ہو جائے گا ،البتہ معاف کرنے والے کے علاوہ باقی ورثاء کو ان کے حصے کے بقدر دیت دینا لازم ہوگا۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے اپنی بہن کو قتل کیا اور ماں باپ نے قاتل کو   معاف کیا ہو توماں باپ کے معاف کرنے کی وجہ سے اس سے قصاص ساقط ہوجائے گا،البتہ اگر اس بہن کے دیگر ورثاء موجود ہوں جیسے شوہریا اولادتو ان کا دیت میں جو حصہ بنتا ہے وہ ان کو ادا کرے گا۔

 

‌ومن عفا من ورثة المقتول عن القصاص رجل، أو امرأة، أو أم أو جدة، أو من سواهن من النساء، أو كان المقتول امرأة فعفا زوجها عن القاتل فلا سبيل إلى القصاص...إن ‌صالح ‌أحد ‌الشركاء من نصيبه على عوض، أو عفا سقط حق الباقين عن القصاص وكان لهم نصيبهم من الدية، ولا يجب للعافي شيء من المال.(الفتاوى الهندية،كتاب الجنايات،الباب السادس في الصلح والعفو والشهادة فيه،ج:6،ص:21)


فتویٰ نمبر : 5718/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں