بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/08/2026

دارالافتاء

 

غیر مسلم کے ساتھ کاروبار کرنا


سوال

غیر مسلم ممالک میں رہتے ہوئے  وہاں کے باشندوں کے  ساتھ تجارت کرنا  کیسا ہے ؟

جواب

واضح رہے کہ غیرمسلم  ممالک میں  رہتے ہوئے وہاں  کے باشندوں کے ساتھ تجارتی معاملات جائز ہیں۔

لہذا صورت مسئولہ میں کسی غیر مسلم   کےساتھ کا روبار کرنا شرعا جائز ہے۔بشرطیکہ مسلمانوں  کا دینی لحاظ سے کوئی نقصان نہ ہوتا ہو  اور نہ  مسلمانوں کی طاقت  وقوت   اس سے متاثرہو تی ہواور کا روبار میں  شرعی اصولوں  کا لحاظ کیا گیا ہو ۔

عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: ‌اشْتَرَى ‌رَسُولُ ‌اللَّهِ صلى الله عليه وسلم ‌مِنْ ‌يَهُودِيٍّ طَعَامًا وَرَهَنَهُ دِرْعًا لَهُ مِنْ حَدِيدٍ.( صحيح مسلم، كتاب البيوع،باب الرهن وجوازه فى الحضر كالسفر،ج:٢/ص:٣١)

أجمع ‌المسلمون ‌على ‌جواز ‌معاملة أهل الذمة وغيرهم من الكفار إذا لم يتحقق تحريم ما معه لكن لا يجوز للمسلم أن يبيع أهل الحرب سلاحا وآلة حرب ولا يستعينون به في إقامة دينهم.(شرح النووى على المسلم، باب الرهن وجوازه فى الحضر كالسفر،ج:٧/ص:٤٣٥٥،دارالفكر)

لا بأس بأن يكون بين المسلم و الذمى معاملة،إذا كان مما لا بد منه.( الفتاوى الهندية ، كتاب الكراهية، ج:٥/ص:٤٠٢)


فتویٰ نمبر :

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں