بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

رکشہ کرائے پر دینا


سوال

زید رکشہ خریدتا ہے پھر عمرو( ڈرائیور) کو دیتا ہے کہ وہ اس رکشے کو چلائے گا پٹرول کا خرچہ بھی عمرو پر لازم ہے اور اگر رکشے میں کوئی خرابی پیدا ہوجائے تو اگر پانچ  سو تک خرچہ آتا ہو تو وہ عمرو پر ہوگا اور اگر پانچ سو سے زیادہ خرچہ آئے تو وہ زید( اصل مالک) پر ہوگااور عمرو زید کو فی دن تین سو روپے دے گا باقی جتنے  پیسے کمائے گا وہ عمرو کے ہونگےاس کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اگرکوئی شخص اپنی  كوئی چیز کسی کو اجرت پر دے دے،  اجرت اورمدت  دونوں  متعین ہوں اور کوئی خلاف عقد شرط نہ لگائی گئی ہو تو ایسا عقد  کرنا شرعا جائز  ہے ۔نیز جب  گاڑی کو اجارہ پر لیا جائے تو اس  کی مرمت کے  مسئلہ میں یہ تفصیل ہے کہ اجرت پر دی ہوئی  گاڑی میں ڈرائیور کی  تعدی وزیادتی کے بغیر کوئی ایسی بنیادی  خرابی لازم  آجائے  جس کی وجہ سے گاڑی سے مطلوبہ   منفعت  حاصل کرنا ممکن نہ ہو تو  اس کی مرمت   مالک  کی ذمہ داری  ہوگی چنانچہ اگراس کی ذمہ داری  ڈرائیورپر لگائی  جائے تو اس سے  یہ عقد فاسد  ہو جائے گا  اور  اگر   گاڑی کا نقصان اور خرابی  ڈرائیور کی غفلت  وکوتاہی سے ہوئی ہو تو اس کی مرمت ڈرائیور پر لازم ہوگی اس کے ساتھ   پٹرول یا گیس کا خرچہ  بھی ڈرائیور  پر ہوگا۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق  ڈرائیور پر مرمت کا جو خرچہ لازم  کیا جاتا ہے اگر وہ بہر حال اس پر لازم کیا جاتا ہو چاہے گاڑی میں نقصان اس کی کوتاہی کی وجہ سے آیا ہو یا اس کی کوتاہی کے بغیر،تو یہ  عقد فاسد ہوگا چنانچہ اس سے اجتناب لازم ہوگا، اور اگر مذکورہ معاہدہ  صرف اس صورت میں ہو کہ جب ڈرائیور کی  غفلت وکوتاہی کی صورت میں نقصان آیا ہو تو پھر مذکورہ عقد جائز ہوگا۔

 

(تفسد ‌الإجارة ‌بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة.(ردالمحتار على الدر المختار،كتاب الإجارة،باب إجرة الفاسدة،ج:6،ص:46)

ولو ‌استأجر ‌دارا بأجرة معلومة وشرط الآجر تطيين الدار ومرمتها أو تعليق باب عليها أو إدخال جذع في سقفها على المستأجر فالإجارة فاسدة.(بدائع الصنائع،كتاب الإجارة، فصل في أنواع شرائط ركن الإجارة،ج:4،ص:194)

لا يلزم الضمان إذا تلف الأجور فى يد المستاجر مالم يكن بتقصيره أو تعديه أو مخالته المأذونيته.(شرح المجلة،المادة:601،ص:322)


فتویٰ نمبر : 3521/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں