بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
یاجوج ماجوج سے متعلق تحقیق
سوال
یاجوج ماجوج عام انسان کی طرح ہیں یا الگ مخلوق ہیں ؟یاجوج ماجوج جس دیوار کے پیچھے چھپے ہیں وہ دیوار ٹوٹ چکی ہے یا ابھی وہ دیوار ٹوٹنا باقی ہے ؟قرآن و حدیث کی روشنی میں صحیح بات کیا ہے ،رہنمائی فرمائیں۔
جواب
جمہور علما تفسیر و حدیث کا قول یہ ہے کہ یاجوج و ماجوج بنی نوع انسان کی دو قوموں یا دو قبیلوں کا نام ہے آدم علیہ السلام ا ور یافث بن نوح علیہ السلام کی نسل سے ہیں جو ترک کا جد اعلیٰ ہے اور ترک اس خاندان کی ایک شاخ ہے جو سد ذوالقرنین کے اس طرف چھوڑ دیے گئے تھے۔ یہ لوگ کافر ہیں اور اس قدر کثیر اور بے شمار ہیں کہ ان میں اور اہل بہشت میں وہ نسبت ہے جو ایک اور ہزار میں ہے۔ امم سابقہ و لاحقہ میں سے جس قدر افراد دوزخ میں جائیں گے ان تمام کے مقابلہ میں اکثریت یاجوج و ماجوج کی ہوگی۔ چنانچہ صحیحین میں ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن آدم (علیہ السلام) کو حکم دیں گے کہ اپنی اولاد سے دوزخ کا لشکر جدا کیجیے عرض کریں گے کہ کس قدر۔ ارشاد ہوگا ہر ہزار سے ایک کم ہزار،صحابہ کرام ؓپر یہ بات شاق گزری تو آپﷺ نےفرمایا کہ خوشخبری ہو (جہنمی)یاجوج ماجوج میں سے ایک ہزار ہونگے اور(جنتی)تم میں سے ایک آدمی ہوگا ۔
سورۃ کہف میں ذوالقرنین کے سفرکا تذکرہ ہے۔اگرچہ قرآنِ کریم نے اس سمت کا نام صراحتاً نہیں لیا ہے لیکن آبادی چونکہ شمال کی طرف زیادہ ہے اس لیے مفسرین نے اسے شمال کی جانب قرار دیا ہے۔شمال کی جانب جب آپ چلے تو ایسی جگہ پہنچے جو دو پہاڑی چوٹیوں کے درمیان واقع تھی۔یہاں ان کی ملاقات جس قوم سے ہوئی ان کی زبان مختلف تھی اس لیے ایک دوسرے کو اپنی بات سمجھانے سے قاصر تھے ۔ذوالقرنین کی شان و شوکت دیکھ کر ان لوگوں نے اپنی ایک درخواست پیش کی کہ یاجوج ماجوج فسادی لوگ ہیں ،جو ان پہاڑوں کے پیچھے رہتے ہیں اور درمیانی درے سے ہم پر حملہ آور ہوتے ہیں۔ہم چاہتے ہیں کہ اس درہ میں ایک دیوار تعمیر ہو ،تاکہ ان کے فساد سے ہم چھٹکارا پائیں۔۔۔چنانچہ ذوالقرنین نےلوہے کے تختے منگوائے اور جب ایک دوسرے پر رکھ کر ان سے پورا درہ بھر گیا تو آگ لگا کر اس کو خوب گرم کیا تا کہ پگھل کر ایک دوسرے کےساتھ چمٹ جائیں اور پھر مزید مضبوطی کے لیے پگھلا ہوا تانبا بھی اس پر ڈال دیا جس سے یہ مضبوط ترین بند تیار ہوگیا ۔
یاجوج ماجوج کا تذکرہ قرآنِ کریم میں دو مرتبہ آیا ہے ۔سورۃ کہف میں اور سورۃ ا نبیا کی آیت نمبر 96 میں جس میں ارشاد ہے :﴿ حتى إذا فتحت ياجوج وماجوج وهم من كل حدب ينسلون﴾ترجمہ:(یہاں تک کہ جب یاجوج ماجوج کو کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلند جگہ سے پھسلتے نظر آئیں گے)۔ایک حدیث میں اس کھولنے کی تشریح رسول اللہﷺ سے یوں منقول ہے کہ جب یاجوج ماجوج کے نکلنے کا وقت آئے گا تو وہ (بند کھولنے کے لیے )کھودنا شروع کر دیں گے پہلے کی طرح ،یہاں تک کہ ان کے قریب لوگ ان کی کلہاڑیوں کی آواز سنیں گے۔جب رات ہوتی ہے تو وہ کہیں گے کہ کل ہم (یہ بند)کھولیں گے اور نکلیں گے۔پس اللہ تعالیٰ اس بند کو واپس بھر دے گا۔پھر وہ کھودنا شروع کر دیں گے پہلے کی طرح یہاں تک ان کے قریب کے لوگ ان کی کلہاڑیوں کی آواز سنیں گے۔جب رات ہوتی ہے تو وہ کہیں گے کل ہم (یہ بند)کھولیں گے اور نکلیں گے ۔پس اللہ تعالیٰ اس بند کو واپس بھر دے گا ۔پھر وہ کھودنا شروع کر دیں گے پہلے کی طرح یہاں تک کہ ان کے قریب لوگ ان کی کلہاڑیوں کی آواز سنیں گے ۔جب رات ہوتی ہےتو وہ کہیں گے کل ہم (یہ بند )کھولیں گے اور نکلیں گے ۔پس اللہ تعالیٰ اس بند کو واپس بھر دے گا۔جب رات ہوتی ہے تو اللہ تعالیٰ ان میں سے کسی آدمی کی زبان پر تیسری رات یہ الفاظ جاری فرما دیتا ہے کہ ہم ان شاء اللہ کل نکلیں گے ،چنانچہ جب کل وہ نکلنے کے لیے آتے ہیں تو اسے اسی طرح پاتے ہیں جس طرح انہوں نے رات کو چھوڑا تھا ۔تو وہ کھودنا شروع کر دیتے ہیں اور اس کو کھول کر (دنیا میں)نکل کر پھیل جائیں گے ۔اگر یہ حدیث اس آیت کے ساتھ ملائی جائے اور یہ کہا جائے کہ یہ حدیث آیت کی تشریح ہے تو پھر معلوم ہوگا کہ یاجوج ماجوج ابھی تک محبوس ہیں اور قیامت کے قریب کھولے جائیں گے۔
سد ذوالقرنین کے ذریعے جن مفسد قبائل کو قید کیا گیا تھا کیا وہ اب تک بند ہیں یا نکل آئے ہیں؟سورۃ انبیاکی آیت اور رسول اللہ ﷺ کی مذکورہ بالا حدیث سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ قربِ قیامت میں ایک عظیم فتنہ کی صورت میں نمودار ہوں گے اور اتنی زیادہ تعدادمیں ہوں گے کہ پوری دنیا میں پھیل جائیں گے ،اِن کی وجہ سے عام لوگوں پر عرصہ حیات تنگ ہوجائے گا ۔
بعض مفسرین نے فتنہ تاتار کو یا جوج ماجوج سمجھ کر کہا ہے کہ یہ قیامت کے متوسط علامات میں سے ایک نشانی تھی جو ظاہر ہوچکی ہے اور یہی یاجوج ماجوج تھے۔تا ہم یہ بھی ہوسکتا ہے کہ قیامت کے قریب بھی اس طرح مفسد اقوام دوبارہ پھیل جائیں اور ظلم وستم کا بازار گرم کریں۔اوروہی وحشی ظالم لوگ یاجوج ماجوج کے مصداق ہوں۔
خلاصہ کلام یہ رہا کہ سورۃ کہف اور سورۃ انبیا کی تفسیر اپنی اپنی جگہ رکھ کر ایک دوسرے پر موقوف نہ کیا جائے ،ایسا ہی بخاری کی روایت کی توجیہ اپنی جگہ کی جائے تو یہ شبہات دور ہو جائیں گے ،چنانچہ سورۃ کہف میں سد ذوالقرنین بذات خود اپنی جگہ ایک واقعہ تھا جہاں سکندر ذوالقرنین نے یاجوج ماجوج کے حملوں سے بچنے کے لیے ایک دیوا ر بنائی تھی،یہ الگ واقعہ ہے بخاری کی روایت سے قطع نظر یہ ضروری نہیں کہ یہ دیوار قرب قیامت میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو بلکہ اس وقت ان لوگوں کو تحفظ دلانے کے لیے یہ دیوار بنائی گئی تھی۔اور مضبوطی کا یہ عالم تھا کہ ذوالقرنین نے کہا کہ قیامت کے موقع پر یہ ریزہ ریزہ ہوگا کیونکہ دنیا کی ہر چیز قیامت کے موقع پر ریزہ ریزہ ہوجائے گی۔
اور سورۃ انبیا کی آیت کو سورۃ کہف کی آیت کے ساتھ ملانا ضروری نہیں کہ قربِ قیامت جو یاجوج ماجوج کھل کر لوگوں پر حملہ آور ہوں گے یہ وہی قبائل ہوں جو سد ذوالقرنین کے پیچھے بند ہیں بلکہ اس سے مراد عام وحشی قبائل ہیں کہ وحشی اقوام کے دلوں میں مہذب قوم کے خلاف نفرت کی آگ ہوگی جو رفتہ رفتہ تیز ہوتی جائے گی یہاں تک کہ ایک وقت ایسا ہوگا کہ تہذیبوں کا تصادم دنیا کے لیے عظیم امتحان ثابت ہوگا ۔اس تہذیبی اور ثقافتی تصادم میں ہر وحشی قوم جب حملہ آور ہوگی تو ظلم وستم کا بازار گرم کرے گی اور ان کی وجہ سے تباہی آئے گی ،ظاہر ہے کہ اس تہذیبی تصادم میں وحشی قوم پہاڑی علاقوں سے نکل کر ہموار اور پست زمین پر رہائش رکھنے والی قوموں پر حملہ آور ہوگی،سورۃ انبیا اس تہذیبی تصادم کی پیشنگوئی کر رہا ہے جب کہ سورۃ کہف میں اس وقت کی خاص قوم کا تذکرہ ہے ۔
جبکہ حدیث میں بنیادی طور پر اشراط اور فتن کا تذکرہ ہے کہ آگ عرب کی سرزمین سے اٹھے گی اور اکثر دنیا اس کی لپیٹ میں ہوگی اور پھر رسول اللہ ﷺ نے تشبیہہ یاجوج ماجوج کے فتنہ سے دی۔
﴿ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا (٨٩) حَتَّى إِذَا بَلَغَ مَطْلِعَ الشَّمْسِ وَجَدَهَا تَطْلُعُ عَلَى قَوْمٍ لَمْ نَجْعَلْ لَهُمْ مِنْ دُونِهَا سِتْرًا (٩٠) كَذَلِكَ وَقَدْ أَحَطْنَا بِمَا لَدَيْهِ خُبْرًا (٩١) ثُمَّ أَتْبَعَ سَبَبًا (٩٢) حَتَّى إِذَا بَلَغَ بَيْنَ السَّدَّيْنِ وَجَدَ مِنْ دُونِهِمَا قَوْمًا لَا يَكَادُونَ يَفْقَهُونَ قَوْلًا (٩٣) قَالُوا يَاذَا الْقَرْنَيْنِ إِنَّ يَأْجُوجَ وَمَأْجُوجَ مُفْسِدُونَ فِي الْأَرْضِ فَهَلْ نَجْعَلُ لَكَ خَرْجًا عَلَى أَنْ تَجْعَلَ بَيْنَنَا وَبَيْنَهُمْ سَدًّا (٩٤) قَالَ مَا مَكَّنِّي فِيهِ رَبِّي خَيْرٌ فَأَعِينُونِي بِقُوَّةٍ أَجْعَلْ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُمْ رَدْمًا (٩٥) آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ حَتَّى إِذَا سَاوَى بَيْنَ الصَّدَفَيْنِ قَالَ انْفُخُوا حَتَّى إِذَا جَعَلَهُ نَارًا قَالَ آتُونِي أُفْرِغْ عَلَيْهِ قِطْرًا (٩٦)﴾
يقول تعالى مخبرا عن ذي القرنين ثم أتبع سببا أي ثم سلك طريقا من مشارق الأرض حتى إذا بلغ بين السدين وهما جبلان متناوحان» بينهما ثغرة يخرج منها يأجوج ومأجوج على بلاد الترك فيعيثون فيها فسادا ويهلكون الحرث والنسل، ويأجوج ومأجوج من سلالة آدم عليه السلام كما ثبت في الصحيحين «إن الله تعالى يقول: يا آدم فيقول لبيك وسعديك فيقول وما بعث النار فيقول ابعث بعث النار؟ فيقول من كل ألف تسعمائة وتسعة وتسعون إلى النار وواحد إلى الجنة، فحينئذ يشيب الصغير وتضع كل ذات حمل حملها فقال إن فيكم أمتين ما كانتا في شيء إلا كثرتاه يأجوج ومأجوج. وفي مسند الإمام أحمد عن سمرة أن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «ولد نوح ثلاثة: سام أبو العرب وحام أبو السودان، ويافث أبو الترك» قال بعض العلماء هؤلاء من نسل يافث أبي الترك، وقال إنما سمي هؤلاء تركا لأنهم تركوا من وراء السد من هذه الجهة وإلا فهم أقرباء أولئك ولكن كان في أولئك بغي وفساد وجراءة.
وقوله: وجد من دونهما قوما لا يكادون يفقهون قولا أي لاستعجام كلامهم وبعدهم عن الناس قالوا يا ذا القرنين إن يأجوج ومأجوج مفسدون في الأرض فهل نجعل لك خرجا...حتى إذا ساوى بين الصدفين أي وضع بعضه على بعض من الأساس حتى إذا حاذى به رؤوس الجبلين طولا وعرضا واختلفوا في مساحة عرضه وطوله على أقوال قال انفخوا أي أجج عليه النار حتى صار كله نارا قال آتوني أفرغ عليه قطرا قال ابن عباس ومجاهد وعكرمة والضحاك وقتادة والسدي هو النحاس زاد بعضهم المذاب ويستشهد بقوله تعالى: وأسلنا له عين القطر [سبإ: 12] ولهذا يشبه بالبرد المحبر.
ثم قال الله تعالى:
﴿فَمَا اسْطَاعُوا أَنْ يَظْهَرُوهُ وَمَا اسْتَطَاعُوا لَهُ نَقْبًا (٩٧) قَالَ هَذَا رَحْمَةٌ مِنْ رَبِّي فَإِذَا جَاءَ وَعْدُ رَبِّي جَعَلَهُ دَكَّاءَ وَكَانَ وَعْدُ رَبِّي حَقًّا (٩٨) وَتَرَكْنَا بَعْضَهُمْ يَوْمَئِذٍ يَمُوجُ فِي بَعْضٍ وَنُفِخَ فِي الصُّورِ فَجَمَعْنَاهُمْ جَمْعًا(٩٩)﴾
يقول تعالى مخبرا عن يأجوج ومأجوج أنهم ما قدروا على أن يصعدوا من فوق هذا السد ولا قدروا على نقبه من أسفله ولما كان الظهور عليه أسهل من نقبه قابل كلا بما يناسبه فقال فما اسطاعوا أن يظهروه وما استطاعوا له نقبا وهذا دليل على أنهم لم يقدروا على نقبه ولا على شيء منه. فأما الحديث الذي رواه الإمام أحمد حدثنا روح حدثنا سعيد بن أبي عروبة عن قتادة حدثنا أبو رافع عن أبي هريرة عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: «إن يأجوج ومأجوج ليحفرون السد كل يوم حتى إذا كادوا يرون شعاع الشمس قال الذي عليهم ارجعوا فستحفرونه غدا فيعودون إليه كأشد ما كان حتى إذا بلغت مدتهم وأراد الله أن يبعثهم على الناس حفروا حتى إذا كادوا يرون شعاع الشمس قال الذي عليهم ارجعوا فستحفرونه غدا إن شاء الله فيستثني فيعودون إليه كهيئته حين تركوه فيحفرونه ويخرجون على الناس فينشفون المياه ويتحصن الناس منهم في حصونهم فيرمون بسهامهم إلى السماء فترجع وعليها كهيئة الدم فيقولون قهرنا أهل الأرض وعلونا أهل السماء فيبعث الله عليهم نغفا في رقابهم فيقتلهم بها قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: «والذي نفس محمد بيده إن دواب الأرض لتسمن وتشكر شكرا من لحومهم ودمائهم».(تفسير إبن كثير، الكهف، الآية:92-99،ج:5، ص:177،175)
حدثنا أبو اليمان: أخبرنا شعيب، عن الزهري (ح). وحدثنا إسماعيل: حدثني أخي، عن سليمان، عن محمد بن أبي عتيق، عن ابن شهاب، عن عروة بن الزبير: أن زينب بنت أبي سلمة حدثته، عن أم حبيبة بنت أبي سفيان، عن زينب بنت جحش: أن رسول الله صلى الله عليه وسلم دخل عليها يوما فزعا يقول: (لا إله إلا الله، ويل للعرب من شر قد اقترب، فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج مثل هذه). وحلق بإصبعيه الإبهام والتي تليها: قالت زينب بنت جحش: فقلت: يا رسول الله، أفنهلك وفينا الصالحون؟ قال: (نعم، إذا كثر الخبث).(صحيح البخاري، كتاب الفتن، باب ياجوج وماجوج، رقم الحديث:6716، ج:6، ص:2609)
حدثنا عمرو الناقد. حدثنا سفيان بن عيينة عن الزهري، عن عروة، عن زينب بنت أم سلمة، عن أم حبيبة، عن زينب بنت جحش؛ أن النبي صلى الله عليه وسلم استيقظ من نومه وهو يقول "لا إله إلا الله. ويل للعرب من شر قد اقترب. فتح اليوم من ردم يأجوج ومأجوج مثل هذه" وعقد سفيان بيده عشرة. قلت: يا رسول الله! أنهلك وفينا الصالحون؟ قال "نعم. إذا كثر الخبث".(صحيح مسلم، كتاب الفتن، باب اقتران الفتن، وفتح ردم يأجوج ومأجوج، رقم الحديث:2880، ج:4، ص:2208 )
حدثنا روح، حدثنا سعيد بن أبي عروبة، عن قتادة، حدثنا أبو رافع، عن أبي هريرة، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: " إن يأجوج ومأجوج ليحفرون السد كل يوم، حتى إذا كادوا يرون شعاع الشمس، قال الذي عليهم: ارجعوا فستحفرونه غدا، فيعودون إليه كأشد ما كان، حتى إذا بلغت مدتهم، وأراد الله أن يبعثهم على الناس، حفروا، حتى إذا كادوا يرون شعاع الشمس، قال الذي عليهم: ارجعوا فستحفرونه غدا إن شاء الله، ويستثني، فيعودون إليه وهو كهيئته حين تركوه، فيحفرونه ويخرجون على الناس، فينشفون المياه، ويتحصن الناس منهم في حصونهم، فيرمون بسهامهم إلى السماء، فترجع وعليها كهيئة الدم، فيقولون: قهرنا أهل الأرض وعلونا أهل السماء، فيبعث الله عليهم نغفا في أقفائهم فيقتلهم بها " فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: " والذي نفس محمد بيده، إن دواب الأرض لتسمن وتشكر شكرا من لحومهم ودمائهم ".(مسند احمد، مسند عبد الله بن عمرو بن العاص رضي الله عنه، حديث أبي رمثة رضي الله عنه عن النبي صلى الله عليه وسلم، رقم الحديث:10632، ج:16، ص:370)
حدثني إسحاق بن نصر: حدثنا أبو أسامة، عن الأعمش: حدثنا أبو صالح، عن أبي سعيد الخدري رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: (يقول الله تعالى: يا آدم، فيقول: لبيك وسعديك، والخير في يديك، فيقول: أخرج بعث النار، قال: وما بعث النار؟ قال: من كل ألف تسعمائة وتسعة وتسعين، فعنده يشيب الصغير، وتضع كل ذات حمل حملها، وترى الناس سكارى وما هم بسكارى، ولكن عذاب الله شديد). قالوا: يا رسول الله، وأينا ذلك الواحد؟ قال: (أبشروا، فإن منكم رجلا ومن يأجوج ومأجوج ألفا. ثم قال: والذي نفسي بيده، إني أرجو أن تكونوا ربع أهل الجنة). فكبرنا، فقال: (أرجو أن تكونوا ثلث أهل الجنة). فكبرنا، فقال: (أرجو أن تكونوا نصف أهل الجنة). فكبرنا، فقال: (ما أنتم في الناس إلا كالشعرة السوداء في جلد ثور أبيض، أو كشعرة بيضاء في جلد ثور أسود).(صحيح البخاري، كتاب الأنبياء، باب قصة ياجوج وماجوج، رقم الحديث:3170، ج:3، ص:1221)
حدثنا عثمان بن أبي شيبة العبسي. حدثنا جرير عن الأعمش، عن أبي صالح، عن أبي سعيد؛ قال:قال رسول الله صلى الله عليه وسلم "يقول الله عز وجل: يا آدم! فيقول: لبيك! وسعديك! والخير في يديك! قال يقول: أخرج بعث النار. قال: وما بعث النار؟ قال: من كل ألف تسعمائة وتسعة وتسعين. قال فذاك حين يشيب الصغير وتضع كل ذات حمل حملها وترى الناس سكارى وما هم بسكارى ولكن عذاب الله شديد" قال فاشتد ذلك عليهم. قالوا: يا رسول الله! أينا ذلك الرجل؟ فقال "أبشروا. فإن من يأجوج ومأجوج ألفا. ومنكم رجل" قال ثم قال "والذي نفسي بيده! إني لأطمع أن تكونوا ربع أهل الجنة" فحمدنا الله وكبرنا. ثم قال "والذي نفسي بيده! إني لأطمع أن تكونوا ثلث أهل الجنة" فحمدنا الله وكبرنا. ثم قال "والذي نفسي بيده! إني لأطمع أن تكونوا شطر أهل الجنة. إن مثلكم في الأمم كمثل الشعرة البيضاء في جلد الثور الأسود. أو كالرقمة في ذراع الحمار".(صحيح مسلم، كتاب الإيمان، باب قوله "يقول الله لآدم أخرج بعث النار من كل ألف تسعمائة وتسعة وتسعين"، رقم الحديث:222، ج:1، ص:201)