بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹے کے لیے رشتہ کرانے کی منت ماننا


سوال

ایک عورت نے نذر مانی کہ اگر میرا فلاں کام ہوا تو میں اپنے بیٹے کے لیے فلاں شخص کی بیٹی کے ساتھ رشتہ کراؤنگی ،اب کام ہوچکا ہے ،تو دریافت طلب امر یہ ہے کہ اس عورت کی یہ نذر منعقد  ہوئی ہے یا  نہیں؟

جواب

لزوم نذر کے لیے فقہاے کرام نے یہ شرط لگائی ہے کہ وہ کام عبادت مقصودہ ہو اور اس کی جنس سے کوئی فرض یا واجب موجود ہو۔

صورت مسئولہ میں بیٹے کے لیے کسی شخص کی بیٹی کے ساتھ رشتہ کرانے کی نذر مانی ہے ،چونکہ یہ کوئی  عبادت مقصودہ   نہیں اور نہ اس کی جنس سے کوئی فرض یا واجب ہے،اس لیے   یہ نذر منعقد  نہیں ہوئی،لہذا اس عورت کے ذمے بیٹے کے لیے مذکورہ رشتہ کرانا لازم اور ضروری نہیں ۔

 

(‌ولم ‌يلزم) ‌الناذر ما ليس من جنسه فرض كعيادة مريض وتشييع جنازة ودخول مسجد.(تنوير الابصارمع الدرالمختارعلى صدر رد المحتار،ج:5،ص:518)

‌ومن ‌نذر ‌نذرا ‌مطلقا أو معلقا بشرط وكان من جنسه واجب، وهو عبادة مقصودة،ووجد الشرط المعلق به (لزم الناذر) لحديث «من نذر وسمى فعليه الوفاء بما سمى» كصوم وصلاة وصدقة. (رد المحتار، على الدر المختار،ج:3،ص:735)


فتویٰ نمبر : 9915/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں