بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

الفاظِ قسم پر تلفظ کرنے کی بجائے اس کی طرف اشارہ کرنا


سوال

ایک ساتھی کا موبائل گم ہوا ہے  اس نے کمرے کے ساتھیوں سے ان الفاظ کے ساتھ قسم  لی ہے کہ " كلما نكحت طلقت " کہ تم اس بات پر قسم کھاؤں کہ میرے  پاس نہ موبائل ہے نہ میں جانتا ہوں کہ کہا ہے اور نہ مجھے علم ہے، ورنہ  "کلما نکحت طلقت"۔ کچھ ساتھیوں سے قسم لیا اور جس ساتھی نے موبائل اٹھائی تھی اس کی نیت میں شرارت  تھی  کہ  چلو کچھ دیر کے لیے اٹھا دیتا ہوں بعد میں واپس کر دونگا، اب جب اس کےپاس آیا تو اس نے اس طرح بات کہی ،کہ وہی والی بات جو تم نے کہی ہے میرے  پاس نہ موبائل ہے نہ میں جانتا ہوں کہ کہا ہے اور نہ مجھے علم ہے۔اب پوچھنا یہ ہے کہ ان الفاظ کے ساتھ قسم منعقد ہوئی ہے یا نہیں؟

جواب

فقہائے کرام کی تصریحات کے مطابق اگر کوئی کسی کو قسم دے رہا ہو،اور وہ جواب میں قسم کے الفاظ نہ کہے بلکہ صرف ہاں کہے یا اس کی تصدیق کرےتو اگر مستحلف(قسم دینے والا) اور مجیب دونوں کا اس سے قسم کا ارادہ ہو تو یہ قسم شمار ہوتا ہے نیز دوسرے کو قسم دینے میں اگر قسم دینے والا ظالم ہو تو مخاطب کی نیت معتبر ہوتی ہے اور اگر مظلوم ہو تو قسم اٹھانے والے کی نیت کا اعتبار ہوتا ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب دوست اس کو قسم دے رہا تھا، اور اس نے الفاظ قسم پر تلفظ کرنے کی بجائے صرف یہ کہا کہ وہی والی بات جو تم نے کہی ہے ، تو یہ ایسا ہے جیسا کہ اس نے مستحلف (قسم دینے والے) کے والےالفاظ دہرائےہوں ، لہذا یہ قسم منعقد ہوگئی ہےاور چونکہ مستحلف نے "کلما  نکحت طلقت" کو اس پر معلق کیا ہے اس لیے حانث ہونے کی وجہ سے جب کبھی وہ نکاح کرے گا تو اس پر بیوی طلاق ہوگی۔

 

مطلب قال لتفعلن كذا قال نعم . . . ولو قال:والله لتفعلن كذا فقال الآخر نعم، فهو على خمسة أوجه:

أحدها: أن ينوي كل من المبتدئ والمجيب الحلف على نفسه فهما حالفان أما الأول فظاهر، وأما الثاني فلأن قوله نعم يتضمن إعادة ما قبله فكأنه قال والله لأفعلن كذا فإذا لم يفعل حنثا جميعا.

الثاني: أن يريد المبتدئ الاستحلاف والمجيب اليمين على نفسه فالحالف هو المجيب فقط.

الثالث: أن لا يريد المجيب اليمين بل الوعد فلا يكون أحدهما حالفا.

الرابع: أن لا يكون لأحدهما نية فالحالف هو المبتدئ فقط.

الخامس: أن يريد المبتدئ الاستحلاف والمجيب الحلف فالمجيب حالف لا غيره ملخصا.( رد المحتار على الدر المختار، كتاب الأيمان، ج:2، ص:849)

عن إبراهيم النخعي رضي الله عنه أنه قال: اليمين على نية الحالف إن كان مظلوماً، وإن كان ظالماً فعلى ‌نية ‌المستحلف وبه أخذ أصحابنا رحمهم الله.(المحيط البرهاني،كتاب الأيمان والنذور،ج:4،ص:208)


فتویٰ نمبر : 9918/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں