بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 26/10/2026

دارالافتاء

 

والدین کا اپنے بیٹوں کو نکاح میں گواہ مقرر کرنا


سوال

ایک شخص نے اپنی بیوی کو طلاق بائن دیا ہے، اب اپنے اس فعل سے بہت پشیمان ہے، اور   چاہتا ہے کہ کسی کو خبر نہ ہو اور کسی طرح دونوں میاں بیوی آپس میں نکاح کرلیں اور خوشگوار زندگی گزاریں، لیکن چونکہ نکاح میں گواہ ہوتے ہیں اب اگر کسی اور کو گواہ مقرر کریں گے تو یہ راز کھل جائےگا اس لیے اگر وہ اپنے بیٹوں کو نکاح میں بطور گواہ مقرر کرنا چاہیں تو کیا شریعت میں اس کی گنجائش ہے؟

جواب

واضح رہے کہ دو عاقل بالغ مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ایجاب و قبول کرنے سے نکاح منعقد ہوجاتا ہے خواہ گواہ اولاد ہی کیوں نہ ہو۔صورت مسئولہ کے مطابق اگر عاقدین کے بیٹے عاقل، بالغ،مسلمان ہوں تو ان کو نکاح میں بطور گواہ مقرر کرنا جائز ہے۔

 

النكاح ‌ينعقد ‌بالإيجاب والقبول. . . ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين.(الهداية، كتاب النكاح، ج:1،ص:85، دار احياء التراث العربي بيروت لبنان)

وينعقد النكاح بحضور من لا تقبل شهادته عليه أصلا كما إذا تزوج امرأة ‌بشهادة ‌ابنيه.(بائع الصنائع في ترتيب الشرائع،كتاب النكاح،ج:2، ص:255)


فتویٰ نمبر : 6862/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں