بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

خلع كے بعد اولاد كی تربیت کاحق


سوال

خلع کے بعد بیٹا ماں کے حوالے کیا جائے گا یا باپ کے حوالہ کیاجائے؟

جواب

میاں بیوی کےمابین جدائی کے بعدجب تک لڑکا سات سال  اور   لڑکی  نو سال کی  عمرتک  نہ پہنچ جائے تو ان کی پرورش کا حق ماں کوحاصل ہوتا ہے،بشرطیکہ کہ وہ کسی ایسے فسق وفجورمیں مبتلاء نہ ہو جس کی وجہ سے بچوں کی تربیت متاثر ہوجانے کا خدشہ ہو یا وہ بچوں کے ذی رحم محرم کے علاوہ کسی اور سے نکاح نہ کرے۔

صورت مسؤلہ کے مطابق خلع  میں بیٹے کی حضانت(پرورش)کاحق سات سال کی عمر تک ماں کو حاصل ہوگا بشرطیکہ وہ بیٹے کے غیر محرم سے نکاح نہ کرے۔سات سال کی عمر کے بعد یہ حق باپ کی طرف منتقل ہوجائے گا ، چنانچہ بیٹے کو باپ کے حوالہ کیا جائے گا۔

 

أحق الناس بحضانة الصغير حال قيام النكاح أو بعد الفرقة الأم إلا أن تكون مرتدة أو فاجرة غير مأمونة كذا في الكافي.(الهندية، ج:1، ص:541)

(والحاضنة) أما، أو غيرها (أحق به) أي بالغلام حتى يستغني عن النساء وقدر بسبع وبه يفتى لأنه الغالب... (والأم والجدة) لأم، أو لأب (أحق بها) بالصغيرة (حتى تحيض)...(وغيرهما أحق بها حتى تشتهى) وقدر بتسع وبه يفتى... (وعن محمد أن الحكم في الأم والجدة كذلك) وبه يفتى لكثرة الفساد.وقال إبن عابدين:(قوله: وبه يفتى) قال في البحر بعد نقل تصحيحه: والحاصل أن الفتوى على خلاف ظاهر الرواية.(رد المحتار على الدرالمختار، ج:3، ص:566)


فتویٰ نمبر : 6858/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں