بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 26/10/2026 |
دارالافتاء
نصاب کے بقدر مال موجود نہ ہونے کی صورت میں زکوۃ لینا
سوال
ایک شخص کے پاس اپنا ذاتی ڈیڑ ھ تو لہ سونا ہواسی طرح وہ گھر کے بھی ایک حصہ کامالک ہو گزارے حال زمین کابھی ایک پلاٹ کھیتی باڑی کےلیے ہو لیکن ان سب کے باجود وہ خود کمانے کی بالکل بھی صلاحیت نہ رکھتا ہو انتہائی معذوری کی بناء پر ہاتھ پاوں کام نہ کرتے ہو ،آنکھوں کی بینائی بھی نہیں ہے اس كے علاوہ اور کوئی ذریعہ معاش بھی نہیں ہے ساتھ بال بچے بھی ہو ں توکیا ان سب اعذار کی بناء پر اگر چہ سونا بھی موجود ہو تولوگ اگر اس کو زکوۃ دینا چاہیں تو وہ وصول کرسکتا ہے یا نہیں ؟
جواب
واضح رہے کہ جب کسی کے پاس سونا ،چاندی،نقد رقم ، یاسامان تجارت ہو اور وہ بقدر نصاب بھی ہو تو سال گزرنے پر زکوۃ واجب ہوتی ہے ۔لیکن اگر نصاب پورا نہ ہو تو زکوۃ لازم نہیں ہوتی ۔
لہذا صورت مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص کے پاس دو تولہ سونے کے علاوہ ساڑھے اڑتیس تولہ چاندی یا اس کی قیمت کے بقدر نقدرقم یا ضرورت سے زیادہ سامان موجود نہ ہو تو اس کےلیے زکوۃ لینا جائز ہے اور اگر دو تو لہ سونے کے علاوہ ساڑھے اڑتیس تولہ چاندی یا اس کی مالیت کے بقدر رقم یا ضرورت سے زیادہ سامان موجود ہو تو ا س کےلیے زکوۃ لینا جائز نہیں البتہ نفلی صدقات لے سکتا ہے۔
لا يجوز دفع الزكاة إلى من يملك نصابا أي مال كان دنانير أو دراهم أو سوائم أو عروضا للتجارة أو لغير التجارة فاضلا عن حاجته في جميع السنة.(الفتاوى الهندية،كتاب الزكوة ،ج:1،ص:189ّ)
فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال.(بدائع الصنائع،كتاب الزكوة،ج:2،ص:410)
ويضم الذهب إلى الفضة، والفضة إلى الذهب ويكمل إحدي النصابين بالآخر عند علمائنا...ثم قال أبو حنيفةؒ:يضم باعتبار القيمة ...وقال أبويوسفؒ ومحمدؒ:يضم باعتبار الأجزاء يعني بالوزن.(الفتاوى التاتا رخانية،كتاب الزكوة،ج:3،ص:157)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 330
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 247
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 902
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 456
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 478
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 325
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1199
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں