بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

قرآن خوانی کے عوض کھانا کھا نا


سوال

ہمارے ادارے میں لوگ بچوں سےپورا قرآن کریم پڑھانے کے لیے درخواست کرتے ہیں وقت کی قلت کی وجہ سے طلبہ قرآن کریم پورا نہیں پڑھتے اور دعا کرتے ہیں تو اس پر صاحب  خانہ طلبہ  کو کھانا دیتے ہیں کیا  یہ کھانا طلبہ کو کھلانا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ قرآن کریم کسی  کےایصال ثواب یا برکت کے حصول  کےلیے   پڑھنا جائز ہے ۔تا ہم اس کے عوض  کوئی اجرت لینا  جائز نہیں۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق صاحب خا نہ کا طلبہ کو  کھانا کھلانا   اگرتلاوت کے  عوض  بطور اجرت نہ  ہو تو پھر جائز ہے چاہے پورا قرآن پڑھا ہو یا بعض ،اور اگر  کھانا کھلانا تلاوت کے عوض کے طورپر ہو تو اس صورت میں اس کاکھانا   جائز نہیں چاہے پورا قرآن پڑھا ہو یا بعض   قرآن پڑھا ہو ۔

 

‌قال ‌تاج ‌الشريعة ‌في ‌شرح ‌الهداية: إن القرآن بالأجرة لا يستحق الثواب لا للميت ولا للقارئ. وقال العيني في شرح الهداية: ويمنع القارئ للدنيا، والآخذ والمعطي آثمان. فالحاصل أن ما شاع في زماننا من قراءة الأجزاء بالأجرة لا يجوز؛ لأن فيه الأمر بالقراءة وإعطاء الثواب للآمر والقراءة لأجل المال؛ فإذا لم يكن للقارئ ثواب لعدم النية الصحيحة فأين يصل الثواب إلى المستأجر ولولا الأجرة ما قرأ أحد لأحد في هذا الزمان بل جعلوا القرآن العظيم مكسبا ووسيلة إلى جمع الدنيا - إنا لله وإنا إليه راجعون.( رد المحتار على الدر المختار،ج:6،ص:56)


فتویٰ نمبر : 5744/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں