بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

تقسیم سے پہلے اپنا حصہ بیچنا


سوال

تقسیم سے پہلے حصہ میراث بیچنے کا کیا حکم ہے ؟ اگر جائز ہے تو تعیین مبیع نہ ہونے کا کیا جواب ہوگاجیسے کہ دو بھائی ہیں میراث کے پلاٹ میں شریک ہیں اب تقسیم سے پہلے ایک بھائی نے اپنا حصہ بیچ دیا ۔اب مشتری روڈ کی طرف حصہ مانگ رہا ہے بائع دوسری طرف دے رہا ہے تعیین مبیع نہ ہونے کی وجہ سے کیا بیع فسخ ہوگی یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ مشترکہ زمین میں سے کسی شریک کا اپنا معلوم حصہ (آدھا یا چوتھائی مثلا ) بیچنا ، فقہا کی اصطلاح میں بیع المشاع کہلاتا ہے جو کہ جائز ہے۔ چاہے دوسرے شرکا اس پر راضی ہو ں یا نہ ہوں البتہ شریک کو اگر اپنا معلوم حصہ معلوم ہی نہ ہو کہ وہ کتنا ہے تو اس صورت میں مبیع مجہول ہونے کی وجہ سے بیع فاسد ہو گی ۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر مشترکہ زمین میں سے ہر شریک کا حصہ مشاع طور پر معلوم ہو اور کوئی شریک اپنا حصہ بیچے تو یہ جائز ہے ۔ اورمشاع حصہ خریدنے والا مشتری ہر ہر جز ءمیں  دوسرے شریک کے ساتھ شریک ہو جائے گا اور اس کی حیثیت اس کے ساتھ اس طرح ہو گی جس طرح بائع کی تھی ۔ چناچہ تقسیم یا مہایاۃ کے طور پر اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے ۔

 

يصح بيع حصة شائعة معلومة كالنصف والثلث و العشر من عقار مملوك قبل الإفراز ، أما إذا كانت الحصة غير معلومة فالبيع فاسد، فلو قال لرجل: بعتك نصيبي من هذه الدار بكذا، وقبل المشتري ولم يكن عالما بنصيبه لا يجوز هذا البيع، و إن علم جاز.... سواء باع من شريكه أو من أجنبي، ولا يشترط فيه إذن الشريك . ( شرح المجلة لسليم رستم باز ، الباب الثاني ، الفصل الثاني ، رقم المادة : 214 ، ص: 103 )

‌فبيع ‌كل ‌منهما نصيبه شائعا جائز من الشريك والأجنبي. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، ‌‌كتاب الشركة ، ج:4 ، ص:300)


فتویٰ نمبر : 3491/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں