بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

والد كا زندگی میں جائیدادكوتقسیم كرنا


سوال

ایک شخص کی ملکیت میں 74 مرلے  جائیداد ہے  اس  کے دس بیٹے  اور سات بیٹیاں ہیں اور ایک بیوی ہے  تو بيوی اور  خود اس شخص یعنی (باپ) اور ان کی اولاد کے  درمیان جائیداد  کس  طرح تقسیم ہو گی؟

جواب

واضح رہے کہ باپ اپنی مملوکہ جائیداد میں خود مختار ہے وہ اس میں  ہر جائز تصرف کر سکتا ہے نیز  اگرکوئی شخص زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا چاہے تو یہ  میراث نہیں، بلکہ ہبہ  ہے، اور ہبہ میں اولاد کے درمیان برابری کا حکم ہے،یعنی جتنا بیٹے کو دے اتنا ہی بیٹی کو دے ۔ اگرکسی شرعی وجہ کے بغیر کسی کو کم یا زیادہ دے تو یہ  مکروہ ہے چنانچہ حضور اکرم ﷺ کا ارشاد ہے کہ'' اپنے اولاد میں برابری کرو ''  البتہ دین داری یا تنگ دستی وغیرہ کی بنیاد پر کسی کو کچھ زیادہ حصہ دینے  کی گنجائش ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق اگر والد  اپنی زندگی میں جائیداد کو  تقسیم کرنا چاہے تو   اس کے لیے بہتر یہی ہے کہ تمام اولاد کے درمیان تقسیم جائیداد میں برابری اور انصاف سے کام لے ۔البتہ  دین داری یا تنگ دستی وغیرہ کی بنیاد پر کسی بیٹے  یا بیٹی وغیرہ  کو کچھ زیادہ حصہ دے تو ایسا کرنا بھی جائز ہے۔ نیز والد کو  چاہیے کہ اپنے لیے پیش آمدہ ضروریات کا خیال رکھتے ہوئے اتنی مقدار میں جائیداد اپنے پاس  رکھے کہ کل کسی کا محتاج نہ بنے ۔اس کے لیے شرعا کوئی مقدار متعین نہیں بلکہ خود اپنی صوابدید پراپنے لیے حصہ رکھ  سکتا ہے۔

 

"وعن النعمان بن بشير أن أباه أتى به إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: إني نحلت ابني هذا غلاما فقال: «أكل ولدك نحلت مثله؟» قال: لا قال: «فأرجعه»الی قولہ۔۔۔«فاتقوا الله واعدلوا بين أولادكم».قال: فرجع فرد عطيته. وفي رواية: أنه قال: «لا أشهد على جور."(مشكاة المصابيح،كتاب البيوع،باب فی العطایا، ج:2 ص:909)

قال علي القاري في شرح هذا الحديث: فلو وهب بعضهم دون بعض فمذهب الشافعي، ومالك، وأبي حنيفة - رحمهم الله تعالى - أنه مكروه وليس بحرام والهبة صحيحة.... وأما معنى الجور فليس فيه أنه حرام لأنه هو الميل عن الاستواء وكل ما خرج عن الاعتدال فهو جور، سواء كان حراما أو مكروها. وفي شرح السنة: في الحديث استحباب التسوية بين الأولاد في النحل، وفي غيرها من أنواع البر حتى في ال

قبلة، ولو فعل خلاف ذلك نفذ.(مرقاة المفاتيح،كتاب البيوع،باب العطايا،ج:5،ص:208)

وذهب الجمهور إلى أن التسوية مستحبة فإن فضل بعضا صح وكره۔ ( فتح الباری ،کتاب الہبۃ وفضلہا :ج:5،ص:530)

ولو وهب رجل شيئا لأولاده في الصحة ‌وأراد ‌تفضيل ‌البعض على البعض في ذلك لا رواية لهذا في الأصل عن أصحابنا، وروي عن أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا كان التفضيل لزيادة فضل له في الدين، وإن كانا سواء يكره وروى المعلى عن أبي يوسف - رحمه الله تعالى - أنه لا بأس به إذا لم يقصد به الإضرار، وإن قصد به الإضرار سوى بينهم يعطي الابنة مثل ما يعطي للابن وعليه الفتوى هكذا في فتاوى قاضي خان وهو المختار، كذا في الظهيرية.(الفتاوى الهندية،ج:4،ص:391)


فتویٰ نمبر : 5709/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں