بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

کفر کا شک ہونا


سوال

مجھے اکثر لگتا ہے کہ میں نے کفریہ جملہ کہہ دیا ہے، میں اس حد تک پریشان ہوں کہ اب نہیں بولتے ہوئے بھی پریشان ہوتا ہوں کہ کہیں کچھ کفریہ کلمات  نہ کہہ دوں، ایک دن میں کئی مرتبہ تجدیدِ ایمان کرتا ہوں، میں کیا کروں اور اگرکسی شخص نے کوئی کفریہ بات بول دی ہو اور وہ کافر ہو گیا ہو لیکن اسے پتہ نہ ہو کہ یہ کفریہ بات ہے بعد میں وہ نیکی اور ثواب کی نیت سے لا إله إلا الله محمد رسول الله پڑھ لے تو کیا وہ مسلمان ہو جائے گا؟

جواب

 واضح رہے کہ برے وساوس کو برا سمجھنا، ان سے ڈرنااور اپنے ایمان کے بارے میں فکر مند ہونا در حقیقت ایمان کی علامت ہے کیونکہ صاحب ایمان ہی ان سےتشویش میں مبتلا ہوتا ہے۔ چنانچہ حدیث میں ہے کہ ایسے ہی وسوسوں کے متعلق صحابہ کرام نے بھی نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ذکر کیا تھا اور ایمان کو خطرہ لاحق ہونے کا خدشہ ظاہر کیا تھاتوآپ ﷺنے ان کی پریشانی سن کر ان سے پوچھا:کیا واقعی ایسے وساوس تم کو آتےہیں؟صحابہ نے عرض کیا :جی ایسے وساوس آتے ہیں۔آپﷺنےفرمایا:"یہ تو صریح ایمان ہے"۔ لہذا محض وسوسوں کے آنے سے پریشان ہونے کی بجائے ان کو نظرانداز کرنا چاہیے اور ایسے وقت میں تعوذاور لا حول ولا قوۃ الا باللہ کا ورد کرناچاہیے۔

 

قال اللہ تعالی:﴿لَا ‌يُكَلِّفُ اللَّهُ نَفسًا إِلَّا وُسعَهَا لَهَا مَا كَسَبَت وَعَلَيها ما كتَسَبَت رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذنَا إِن نَّسِينَا أَو أخطأنا...﴾(البقرة :286)

عن أبي هريرة قال :جاء ناس من أصحاب النبّي صلى الله عليه وسلم إلى النبي صلى الله عليه وسلم فسألوه:إنا نجد في انفسنا ما يتعاظم أحدنا أن يتكلم به، قال: "أوقدوجدتموه" قالوا :نعم قال: "ذلك صريح الإيمان"۔ وعنه، قال:قال رسول الله صلي الله عليه وسلم:"يأتي الشيطان أحدكم،فيقول:من خلق كذاو كذا؟حتي يقول له:من خلق ربك؟ فإذا بلغ ذلك؛ فليستعذ بالله ولينته".(الصحيح لمسلم،ج:1،ص:179)

"فليستعذ بالله":طردا للشيطان إشارة إلي قوله تعالي:[إلا عبادك منهم المخلصين]وإيماء إلي قوله عليه الصلاة والسلام:"لا حول ولا قوة إلا بالله" فإن العبد بحوله ليس له قوة المغالبة مع الشيطان ومجادلته،فيجب عليه أن يلتجئ إلي مولاه ويعتصم بالله من الشيطان الذي أو قعه في هذا الخاطر.(مرقاة المفاتيح، ج: 1، ص:242)

لا يخرج الرجل من الإيمان إلا بجحود ما أدخله فيهِ ثم ما تيقن أنه ردة يحكم بها به، وما يشك أنه ردة لايحكم بها إذالإسلام الثابت لايزول بشك مع أن الإسلام يعلو ومن تكلم بها (كلمة الكفر) مخطأ أومکرها لايکفرعند الکل.(البحرالرائق،ج: 5، ص:209)


فتویٰ نمبر : 5717/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں