بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

بتوں والے عجائب گھر میں ملازمت کا حکم


سوال

کیا ایسے عجائب گھر یعنی میوزیم میں کسی مسلمان کے لیے ملازمت جائز ہے جس میں مختلف قسم کے بت بھی موجود ہوں؟

جواب

واضح رہے کہ بتوں کی عبادت کرنا بلاشبہ شرک اور خلاف شرع کام ہے اورخلاف شرع امورکاارتکاب یاان میں معاونت سے احترازلازم ہے، تاہم میوزیم میں جو چیزیں رکھی جاتی ہیں وہ آثارقدیمہ اورثقافتی یادگار کے طورپررکھی جاتی ہیں  نہ کہ عبادت کے لئے۔لہذاصورت مسئولہ کے مطابق جس موزیم میں بت موجود ہو ں اس میں ملازمت کرنے کی  گنجائش ہے۔

 

ولو استأجر الذمي مسلما ‌ليبني ‌له ‌بيعة أو كنيسة جاز ويطيب له الأجر. كذا في المحيط.(الهندية، ج:4، ص:450)


فتویٰ نمبر : 3485/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں