بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مغرب کے دائیں بائیں قبلہ گاہ بنانے کے حدود


سوال

ہمارے ہاں مسجد کے لیے پلاٹ خریدا گیا ہے، اب قبلہ کا رخ معلوم کرنے کے لیے جو آلات موجود ہیں ان کے مطابق قبلہ کی سمت بالکل سیدھی معلوم ہوتی ہے، جب کہ آس پاس مساجد کا رخ قبلہ کچھ ٹیڑھا ہے۔ آنجناب کی خدمت میں مؤدبانہ گزارش ہے کہ پاکستان میں مقام مغرب کے دائیں بائیں کس درجہ ڈگری تک قبلہ گاہ بنانے کی اجازت ہے؟

جواب

جن لوگوں کوبیت اللہ نظر  آتا ہو ان کے لیے  عین کعبہ کی طرف رخ  کر کے نماز پڑھنا فرض  ہے اور عین کعبہ سے انحراف کی صورت میں نماز ادا نہ ہوگی البتہ جن  کو بیت اللہ نظر نہ آتا ہو ان کے لیے عین کعبہ کی طرف رخ کر کے نماز پڑھنا ضروری نہیں  بلکہ جہت قبلہ کی طرف رخ کرکے نماز پڑھنا ضروری ہے  اور جہت قبلہ عین قبلہ سے دائیں  بائیں 45،45 ڈگری تک ہےلہذا اگر  نمازی عین قبلہ سے اتنا انحراف کرے کہ وہ دائیں  یا بائیں 45 ڈگری کے اندر ہو تو ایسی صورت میں   اس کی نماز ادا ہوجائے گی ۔

جہاں تک پاکستان کا تعلق ہے تو اس کے تمام شہروں میں سمت قبلہ اگرچہ جانب مغرب ہے لیکن عین سمت قبلہ ہر جگہ کا مختلف ہو تا ہےمثلاً پشاور کا عین قبلہ شمال سے بطرف مغرب 106.19 درجہ ہے۔ لہذا اس سے 45 ڈگری دائیں اور بائیں طرف منہ کرکے نماز پڑھنے کی گنجائش ہے،اسی طرح ہر جگہ جو عین سمت قبلہ ہو اس سے دائیں بائیں 45،45 ڈگری تک جہت قبلہ ہے ،لہذاجن مساجد کا قبلہ اس  کے اندر اندر ہو وہ درست ہے چانچہ اس کو ہٹانے کی ضرورت نہیں ۔

 

استقبال القبلة فللمكي إصابة عينها ولغيره إصابة جهتها.(تنوير الأبصار مع الدر المختار،ج:2،ص:108)

وجهتها أن يصل الخط الخارج من جبين المصلي إلى الخط المار بالكعبة على استقامة بحيث يحصل قائمتان.أو نقول : هو أن تقع الكعبة فيما بين خطين يلتقيان في الدماغ فيخرجان إلى العينين كساقي المثلث، كذا قال النحرير التفتازاني في شرح الكشاف، فيعلم ‌منه ‌أنه لو انحرف عن العين انحرافا لا تزول منه المقابلة بالكلية جاز، ويؤيده ما قال في الظهيرية: إذا تيامن أوتياسر تجوز لأن وجه الإنسان مقوس لأن عند التيامن أو التياسر يكون أحد جوانبه إلى القبلة.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الصلاة، باب شروط الصلاة،ج:2،ص:109)


فتویٰ نمبر : 5753/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں