بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 08/09/2026 |
دارالافتاء
بچے كو كفاره یمین دینا
سوال
اگر کپڑوں میں کفارہ یمین اداء کرنا ہو اور دس مسکینوں میں سے ایک نابالغ بچہ ہو اس کو بھی ایک کپڑادے دیا تو کفارہ ادا ہوگا یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ صدقات واجبہ(کفارہ یمین ، نذر وغیرہ ) کی ادا ئیگی کےلیے ضروری ہے کہ یہ ان لوگوں کو دیا جائے جو مستحق زکوۃ ہوں چاہے بالغ ہو ں یا نابالغ لیکن نابالغ کےلیےشرط یہ ہے کہ اس کا والدبھی صاحب نصاب نہ ہو اور وہ سمجھداربھی ہو یعنی قبضہ کرنا جانتا ہو ۔
لہذا صورت مسئولہ میں ایسے نابالغ بچے کو کفارہ یمین میں کپڑا دینا جا ئزہے جو نہ خود صاحب نصاب ہو اور نہ اس کا والد صاحب نصاب نہ ہو اور باشعور بھی ہو یعنی قبضہ کرنا جانتا ہو ۔
وأما إطعام الصغير عن الكفارة فجائز بطريق التمليك لا الإباحة اهـ وبه علم أن ذكر ذلك هنا غير صحيح وإن وقع في النهر لأن الكلام هنا في التمليك وهو صحيح للصغير، فالصواب ذكره عند قوله وإن غداهم وعشاهم إلخ كما فعل في البحر، وكذا في المنح حيث قال هناك: ولو كان فيمن أطعمهم صبي فطيم لم يجزه لأنه لا يستوفي كاملا. اهـ.وفي التتارخانية: وإذا دعا مساكين وأحدهم صبي فطيم، أو فوق ذلك لا يجزيه كذا ذكر في الأصل. وفي المجرد: إذا كانوا غلمانا يعتمد مثلهم يجوز. اهـ. وبه ظهر أيضا أن المراد بالفطيم وبغير المراهق من لا يستوفي الطعام المعتاد (قوله: كالفطرة قدرا) أي نصف صاع من بر، أو صاع من تمر، أو شعير ودقيق كل كأصله، وكذا السويق.(رد المحتار، على الدر المختار،باب كفارة الظهار،ج:3،ص:478)
(وأما) مصرف الكسوة فمصرفها هو مصرف الطعام(بدائع الصنائع،ج:5،ص:107)
والمانع أن الطفل يعد غنيا بغنى أبيه بخلاف الكبير فإنه لا يعد غنيا بغنى أبيه ولا الأب بغنى ابنه ولا الزوجة بغنى زوجها ولا الطفل بغنى أمه في البحر.(رد المحتار، على الدر المختار،باب مصرف الزكوة والعشر،ج:2،ص:350)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 314
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 234
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 857
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 434
- کتاب الصوم | فتاوئ : 90
- کتاب الحج | فتاوئ : 111
- کتاب النکاح | فتاوئ : 551
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 475
- خلع | فتاوئ : 48
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 6
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 58
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 86
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 461
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 98
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 75
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 75
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 21
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 171
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 385
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 21
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 6
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 31
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 197
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 146
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 58
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 40
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 316
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1155
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 32
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 374
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں