بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 22/10/2026 |
دارالافتاء
پانچ تولہ سونا پر زکوٰۃ
سوال
ایک خاتون کے پاس پانچ تولہ سونا ہے اور سونے کے علاوہ اس خاتون کے ساتھ کچھ بھی نہیں ہے مثلا نقدی وغیرہ... ویسے عام عادت کے مطابق جیب خرچ کیلئے خاوند ماہانہ یا ہفتہ وار یا روزانہ کچھ رقم دیتے ہیں تاکہ بوقت ضرورت خود یا بچوں پرخاتون خرچ کرے خاتون کی ملکیت میں نقد روپیہ ، سامان تجارت کچھ بھی نہیں ہے اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ خاتون پر زکوٰۃ فرض ہے یانہیں؟نوٹ : مذکورہ خاتون فی الحال گھر میں کچھ سامان وغیرہ بیچتی ہے چھوٹے بچوں کی مثلا پاپڑ ، چنے، وغیرہ، جبکہ خاتون کے خاوند کا کہنا ہے کہ یہ جو کچھ بھی ہے یہ میرا ہے اور نفع ونقصان بھی میرا ہی ہے۔
جواب
جس شخص کی ملکیت میں ساڑهے سات تولہ سونا یا ساڑھے باون تولہ چاندی یا اتنی نقد رقم ،یا سامان تجارت موجود ہو کہ وہ ساڑھے باون تولہ چاندی کی قیمت تک پہنچے اور اس پر سال بھی گزر جائے تو ایسے شخص پر زکوٰۃ واجب ہو جاتی ہے ۔اگر اس سے کم ہو تو پھر زکوۃ واجب نہیں ہوتی۔
صورت مسئولہ کے مطابق جس خاتون کے پاس پانچ تولہ سونا ہے اگراس کے پاس اس کے علاوہ کوئی نقد رقم یا مال تجارت نہ ہو تو اس پر زکوٰۃ واجب نہ ہو گی ۔
نصاب الذهب عشرون مثقالا، (قوله: عشرون مثقالا) فما دون ذلك لا زكاة فيه."( ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الزكاة ، باب زكاة المال، ج:2 ، ص:295)
فأما إذا كان له ذهب مفرد فلا شيء فيه حتى يبلغ عشرين مثقالا فإذا بلغ عشرين مثقالا ففيه نصف مثقال.( بدائع الصنائع، كتاب الزكاة ، فصل مقدار الواجب في زكاة الذهب، ج:2 ، ص:18)
ومنها كون المال نصابا فلا تجب في أقل منه. (الفتاوى الهندية ، كتاب الزكاة ، الباب الأول في تفسيرها وصفتها وشرائطها،ج:1، ص:233)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں