بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 25/08/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ کے چندے کو اپنے پیسوں کے ساتھ ملانا


سوال

ایک آدمی کے ساتھ مدرسے کے چندے کے پیسے ہیں ۔ تو ان پیسوں کو اپنے پیسوں کے ساتھ خلط ملط کر سکتا ہے یا نہیں ؟ اگر چہ دونوں کا حساب معلوم ہو کہ مدرسے کے اتنے ہیں اور میرے اتنے۔

جواب

واضح رہے کہ جب کسی کے پاس  كوئی  امانت رکھوائی جائے تو اس پر اس کی حفاظت لازم ہوجاتی ہے اور اس میں کسی قسم کی تبدیلی جائز نہیں ، اپنے  مال کے ساتھ خلط کی صورت میں اگر چہ قیمت کے اعتبار سے کوئی فرق نہیں پڑتا ، لیکن خلط ملط کی صورت میں اس کے ضائع ہونے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ اس لیے احتیاط کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق مدرسے کے پیسوں کو اپنے ذاتی پیسوں کے ساتھ قصداً خلط کرنے میں چونکہ بے احتیاطی کا خطرہ ہے ، جب کہ یہ پیسے اس کے پاس امانت ہوتے ہیں اس لیے بلا ضرورت اس قسم کا تصرف خیانت میں شمار ہو گا ۔

 

(وكذا لو خلطها المودع) بجنسها أو بغيره (بماله) أو مال آخر(بغير إذن) المالك (بحيث لا تتميز) إلا بكلفة كحنطة بشعير ودراهم جياد بزيوف ضمنها.(ردالمحتارعلى الدرالمختار، کتاب الإیداع، ج:5، ص:668، 669)

خلط الوديعة بلا إذن صاحبها مع مال آخر بصورة يتعذر ولا يمكن معها تفريقها عنه يعد تعديا بناء عليه إذا خلط المستودع مقداار الدنانير ذات المائة المودعة عنده بدنانير بلا إذن ثم ضاعت أوسرقت يكون ضامن خلط الوديعة بلا إذن المودع مع مال آخر بحيث يتعذر فلا يمكن تفريقها عنه أو أمكن بتعسر يعد تعديا. يعني موجبا للضمان. ( مجلة الاحكام العدلية ، ص:151 ، المادة:788)


فتویٰ نمبر : 5713/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں