بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

کھمبی "خریڑے"کھانے کا حکم


سوال

ہمارے گاؤں میں جب بارش ہوتی ہے تو فصلوں اور کچی گھروں میں  ایک پودا  اگتا ہے جس کو ہم پشتو میں"خریڑے" اور اردو میں کھمبی کہتے ہیں،تو شرعا  اس کا کھانا  اور کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں؟نیزکیا  قرآن  وحدیث میں اس کا تذکرہ ہے؟

جواب

شریعت مطہرہ کی رو سے نباتات اور پودوں کے بارے میں اصول یہ ہے کہ اگر وہ نشہ آور یا ضرر رساں نہ ہوں تو ان کا کھانا جائز ہے ۔

صورت مسئولہ کے مطابق کھمبی(Mushroom)بھی نباتات میں سے ہےاور طبی لحاظ سے اس میں کئی فوائد بھی ہیں ،لہذا یہ حلال ہے۔ احادیث میں بھی اس کے فوائد کا تذکرہ موجود ہے ارشاد ہے:کھمبی "من"میں سے ہےاس کا پانی آنکھ کے لیے شفاء ہے۔

 

عن عبد الملك، سمعت عمرو بن حريث، قال: سمعت سعيد بن زيد، قال: سمعت النبي صلى الله عليه وسلم يقول:‌الكمأة ‌من ‌المن، وماؤها شفاء للعين.(صحيح البخاري،كتاب الطب، ‌‌باب:المن شفاء للعين،ج:7،ص:126)

قال ابن حجر العسقلانى فى توضيح هذا الحديث:قال الخطابي إنما اختصت الكمأة بهذه الفضيلة لأنها من الحلال المحض الذي ليس في اكتسابه شبهة ويستنبط منه أن استعمال الحلال المحض يجلو البصر والعكس بالعكس.(فتح الباري شرح صحيح البخاري،كتاب الطب،قوله باب المن شفاء للعين،ج:10،ص:164)


فتویٰ نمبر : 5702/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں