بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

اسٹاک ایکسچینج میں جائز صورتیں


سوال

اسٹاک ایکسچینج میں جائز صورتیں کون کونسی ہے؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے اسٹاک ایکسچینج  میں شیئر ز خرید وفروخت  مندرجہ ذیل شرائط کی رعایت کے ساتھ جائز ہے :

(1) کمپنی کا صل کاروبار حلال ہو چنانچہ جس کمپنی کا اصل کاروبار حرام ہوں  تو اس کے شیئرز خریدنا بھی حرام ہو گا ۔

(2) کمپنی کے کچھ منجمد اثاثے وجود میں آچکے ہو ں ،  اگر اثاثے صرف نقد کی شکل میں موجود ہو  ں تو پھر خریدے ہوئے شیئرز فروخت کرنے کی صورت میں اس پر منافع لینا جائز نہیں ہوگا ۔

(3) اگرکمپنی کا اصل کاروبار تو حلال ہو ،لیکن سودی لین دین بھی کرتی ہو ،مثلاً بینک سے سودی قرضہ حاصل کرتی ہو یا اپنی رقوم سودی اکاوئنٹ میں رکھتی ہو تو ایسی صورت میں اس کمپنی کے شیئرز دو شرطوں کے ساتھ خریدنا جائز ہے :

پہلی شرط یہ ہے کہ اپنی بس کے مطابق سود کے خلاف آواز اٹھائے اور سالانہ میٹنگ میں اظہار کرے  کہ ہم سودی لین دین پر راضی نہیں ہیں ، لہذا اس کو بند کیا جائے ۔

دوسری شرط یہ ہے آمدنی کا جو حصہ سودی کھاتے سے حاصل کیا گیا ہواگر وہ معلوم ہوجائے تو  بلانیت ثواب صدقہ کرے ۔

 (4)شیئرز کی خریدفروخت کرنے میں ایک شرط یہ بھی ہے کہ شیئرز خریدنے کے بعد شیئر ہولڈرز ان شیئرز پر قبضہ کرے، اس کے بعد ان کو فروخت کرے، شیئرز پر قبضہ کئے بغیر انہیں آگے فروخت کرنا شرعاً درست نہیں۔

 

‌وبطل ‌بيع ‌مال ‌غير ‌متقوم كخمر وخنزير فإن المتقوم هو المال المباح الانتفاع به شرعا (رد المحتار، على الدر المختار،باب بيع الفاسد،ج:5،ص:50)

‌إذا ‌دفع ‌المسلم ‌إلى ‌النصراني مالا مضاربة بالنصف فهو جائز إلا أنه مكروه، فإن اتجر في الخمر والخنزير فربح جاز على المضاربة في قول أبي حنيفة - رحمه الله تعالى - وينبغي للمسلم أن يتصدق بحصته من الربح(الفتاوى الهندية،ج:4،ص:333)

ولا تجوز الشركة ‌إذا ‌شرط ‌لأحدهما ‌دراهم ‌مسماة من الربح(الهداية،كتاب الشركة،ج:3،ص:11)

ومن اشترى شيئًا مما ينقل، ويحوّل لم يجز له بيعه حتى يقبضه)، لما روي عن رسول اللّه صلى الله عليه وسلم "أنه نهى عن ‌بيع ‌ما ‌لم ‌يقبضه"( شرح مشكلات القدوري،ج:1،ص:541)


فتویٰ نمبر : 3479/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں