بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
ایک دکاندار کا دوسرے دکاندار سے کوئی چیز لے کر گاہک پر فروخت کرنا
سوال
اگر کسی دکاندار کے پاس گاہک آئے اور اپنی مطلوبہ چیز کونہ پائے ، تووہ دکاندار کسی دوسرے دکاندار سے وہ چیز لے کر نفع کے ساتھ اس گاہک پر فروخت کر دے تو کیا اس طرح فروخت کرنا شرعا جائز ہے؟
جواب
اگر کسی دکاندار کے پاس گاہک کی مطلوبہ چیز نہ ہو اور وہ دوسرے دکاندارسے وہ چیزلا کر گاہک پر نفع کے ساتھ فروخت کرے تو یہ شرعا جائز ہے، کیونکہ عام طور سے ایک دکاندار دوسرے دکاندار سے وہ چیز خرید لیتا ہےاگر چہ ایجاب وقبول کے صریح الفاظ استعمال نہ ہوں، چنانچہ یہ بیع تعاطی ہوتی ہے، تاہم یہ ضروری ہے کہ دونوں دکانداروں کے مابین مبیع کی قیمت پہلے سے متعین ہو،لہذا اگر مبیع کی قیمت پہلے سے متعین نہ ہو تو ایسی صورت میں بیع فاسد ہوجائے گی۔پھراگر گاہک دکاندار سے مطلوبہ چیز خرید لے تو ٹھیک، لیکن اگر گاہک نہ خریدے تو ایسی صورت میں پہلا دکاندار دوسرے دکاندارکو وہ چیز واپس لینے پر مجبور نہیں کرسکتا، البتہ اگروہ خوشی اور رضامندی سے فروخت کی گئی قیمت پر واپس لے لے تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں۔
(هو مبادلة مال بمال ينعقد بإيجاب وقبول، بلفظي ماض وبتعاط في النفيس والخسيس)(شرح الوقاية،كتاب البيع،ج:4،ص:3)
(وأما) المبادلة بالفعل فهي التعاطي ويسمى هذا البيع بيع المراوضة وهذا عندنا... والدليل عليه قوله عز وجل {إلا أن تكون تجارة عن تراض منكم} [النساء: 29] ، والتجارة عبارة عن جعل الشيء للغير ببدل وهو تفسير التعاطي.(بدائع الصنائع،كتاب البيوع،فصل في شرائط ركن البيع،ج:5،ص:134)
(ومنها) أن يكون المبيع معلوما وثمنه معلوما علما يمنع من المنازعة.فإن كان أحدهما مجهولا جهالة مفضية إلى المنازعة فسد البيع.(بدائع الصنائع، كتاب البيوع، فصل في شرائط الصحة في البيوع،ج:5،ص:156)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں