بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

بیوی کا شوہر سے الگ گھر کا مطالبہ کرنا


سوال

اگر کسی عورت  کو شوہر نے اپنے گاؤں میں اپنے ساتھ گھر میں رکھا ہو اور  گھر میں تمام  سہولیات میسر ہوں لیکن اس کے باوجود   وہ  اس گھر میں رہائش اختیار کرنے سے انکاری ہو اور اپنے لیے  الگ گھر کا مطالبہ کرتی ہو ۔ تو کیا اس صورت میں شوہر پر اس   کو الگ گھر مہیا  کرنا لازم  ہوتا ہے یا نہیں؟

جواب

 شوہر کے ذمہ جس طرح  بیوی کا  نان ونفقہ لازم ہوتاہے ،اسی طرح  رہائش کا انتظام  کرنا بھی شوہر کے ذمہ ہوتا  ہے، رہائش سے مراد ایسا کمرہ  ہے جس میں شوہر کے گھر والوں کی مداخلت نہ ہو، چنانچہ اگر شوہر یہ  سہولت  فراہم کردے   تو اس کی  ذمہ داری پوری ہوجاتی ہے۔

 صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی نے اپنی بیوی کے لیے  گاؤں  میں گھر کا انتظام کیا ہوتو ا س سے  بیوی کے رہائش  کا حق   ادا ہوجاتا ہے،لہذا  اس کے بعد بیوی کا  الگ  رہائش کا مطالبہ کرنا درست نہیں  اور نہ ہی شوہر کے ذمہ علیحدہ گھر مہیا کرنا لازم  ہے۔

 

"تجب السكنى لها عليه في بيت خال عن أهله وأهلها إلا أن تختار ذلك…امرأة أبت أن تسكن مع ضرتها، أو مع أحمائها كأمه وغيرها، فإن كان في الدار بيوت فرغ لها بيتا، وجعل لبيتها غلقا على حدة ليس لها أن تطلب من الزوج بيتا آخر، فإن لم يكن فيها إلا بيت واحد فلها ذلك".(الفتاوى الهندية،كتاب الطلاق،الباب السابع عشر فى النفقات،الفصل الثانى،ج:1،ص:556)

"إن أمكنه أن يجعل لها بيتًا على حدة في داره ليس لها غير ذلك".(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الطلاق،باب النفقة،مطلب في مسكن الزوجة،ج:3،ص:601)

"ويشترط أن لايكون في الدار أحد من أحماء الزوج يؤذيها،كما فى الخاينة.قالو:للزوج أن يسكنها حيث أحب،ولكن بين حيران صالحين".(البحر الرائق،كتاب الطلاق،باب النفقة،ج:4،ص:211)


فتویٰ نمبر : 6849/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں