بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

بیٹے پر کیے گئےخرچے کا والد سے مطالبہ کرنا


سوال

 ہماری شادی کو ڈیڑھ سال گزر گئے ، اللہ تعالیٰ نے26 رمضان المبارک (شب قدر) میں ایک بیٹے سے نوازا اس کے دوسرے دن میری بیوی اپنے نومولود بچے کو لیکراپنے ساتھ میکے چلی گئی ،اس کے بعد سے اب تک 8 مہینے ہوئے ہیں میں نے نفقہ دینا بند کردیا اور بچے کے اخراجات بھی کیونکہ جب بھی  میں اپنے بچے سے ملنے کیلئے جاتا تو بیوی اور سسر بچہ کےساتھ  ملنےسے منع کردیتے ہیں،اس لئے میں نے بھی بچے کے اخراجات دینا  بند کردیا ،اب  اگر بالفرض وہ لوگ اپنی بیٹی کو بھیج دیں تو کیا ماضی کے اب تک 8 مہینےبچے کے اخراجات کا والد سے مطالبہ کیا جاسکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ میاں بیوی چاہے ساتھ ہوں یا ان کے درمیان جدائی ہوگئی ہو، بہر صورت نابالغ بچوں کے نفقہ کی ذمہ داری والد پر ہے، لیکن  اگر کوئی شخص اپنی اولاد کا نفقہ ادا نہ کرے اور کچھ عرصہ گزر جائے تو اس شخص سے اپنے بچے کا گزشتہ عرصہ کا نفقہ ساقط ہو جاتا ہے اور وہ اس کے ذمہ باقی نہیں رہتا۔

لہذا صورتِ مسئولہ میں اگر مذکورہ شخص نے اپنےبیٹے کے   گزشتہ عرصہ کا نفقہ ادا نہیں کیا  تو اس کا مطالبہ باپ سے نہیں کیا جاسکتا ۔

 

نفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد۔۔۔فإن أبى أن يكتسب وينفق عليهم يجبر على ذلك، ويحبس كذا في المحيط۔۔۔الذكور من الأولاد إذا بلغوا حد الكسب۔۔۔وأما الإناث فليس للأب أن يؤاجرهن في عمل، أو خدمة ( الفتاوى الهندية، كتاب الطلاق، باب النفقات، الفصل الرابع في نفقة الاولاد، ج:1، ص:582)
"(قوله: والنفقة لاتصير ديناً إلخ) أي إذا لم ينفق عليها بأن غاب عنها أو كان حاضراً فامتنع فلايطالب بها، بل تسقط بمضي المدة .....  ثم اعلم أن المراد بالنفقة نفقة الزوجة، بخلاف نفقة القريب؛ فإنها لاتصير ديناً ولو بعد القضاء والرضا، حتى لو مضت مدة بعدهما تسقط". (رد المحتارعلى الدر المختار،ج:3،ص:594)

وفي الهداية: ولو قضى القاضي للولد والوالدين وذوي الأرحام بالنفقة فمضت مدة سقطت؛ لأن نفقة هؤلاء تجب كفاية للحاجة حتى لا تجب مع اليسار وقد حصلت بمضي المدة، بخلاف نفقة الزوجة إذا قضى بها القاضي؛ لأنها تجب مع يسارها فلا تسقط بحصول الاستغناء فيما مضى(رد المحتار، على الدر المختار،ج:3،ص:633)


فتویٰ نمبر : 6852/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں