بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 26/10/2026 |
دارالافتاء
دورکعت سنت کی ابتدا کرکے چار رکعت پڑھنا
سوال
ایک شخص اگرظہرکی دو سنت رکعتوں کی ابتدا کرلےاور غلطی سے تیسری رکعت کےلیے بھی اٹھ جائےقعدہ کے بعد اور اس تیسری رکعت کے ساتھ چوتھی رکعت بھی ملالے اور آخر میں سجدہ سہو کرے تو کیا اس سے چار رکعت سنت ظہر کے اداہوجائیں گے یانہیں ؟اگر اس نے فرض نمازسے پہلے چاررکعت سنت نہیں پڑھی ہو؟
جواب
دورکعت والی نماز کے آخری قعدہ میں تشہد پڑھنے یا تشہد کی مقدار میں بیٹھنے کے بعد اگر کوئی بھولے سے کھڑاہوجائےاور اس کے ساتھ چوتھی رکعت بھی ملالے اور آخر میں سجدہ سہو کرلے تو اس سے وہی نماز اداہوگی جس کی اس نے نیت کی تھی اور باقی دورکعتیں نفل شمار ہوں گی۔
لہذا صورت مسئولہ میں دو رکعت سنت کی ابتداکرکےدوسری رکعت پر قعدہ کے بعد تیسری رکعت کےلیے کھڑے ہوکر چار رکعتیں پڑھ لینے سے ظہر کی چار رکعت سنت مؤکدہ ادانہیں ہوگی دو رکعت سنت ادا ہوجائیں گی اور باقی دورکعتیں نفل ہوں گی۔
(الفصل الثامن في الزيادة على قدر المسنون وهو ركعتان بتسليمة واحدة) فنقول لا يخلو إما أن يقعد على رأس الشفع الأول أو لا يقعد فإن قعد ففيه خلاف والأصح أنه يجوز عن التسليمتين؛ لأن كل شفع صلاة على حدة ولهذا لو فسد الشفع الثاني فسد هو لا غير، ولأنه لم يحل بينهما بالسلام الذي هو بمعنى الكلام فكان أحق بالجواز.(المبسوط للسرخسي،كتاب التراويح،ج:2،ص:147)
(قوله ولا عبرة بنية متأخرة) لأن الجزء الخالي عن النية لا يقع عبادة فلا ينبني الباقي عليه، وفي الصوم جوزت للضرورة بهنسي، حتى لو نوى عند قوله الله قبل أكبر لا يجوز لأن الشروع يصح بقوله الله فكأنه نوى بعد كالتكبير.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب شروط الصلاة،ج:1،ص:417)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں