بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 09/09/2026

دارالافتاء

 

صاحب ترتیب کے احکامات کا ثبوت


سوال

ہم اکثر فقہ کی کتابوں میں صاحب ترتیب کی نمازوں کے احکام پڑھتے ہیں ،تو صاحب ترتیب کی فضیلت کیا ہے ، اور کیا صاحب ترتیب کا ذکر احادیث میں ہے یعنی صاحب ترتیب کی فضیلت اور احکام احادیث میں آئے ہیں یا نہیں؟ اگر ہوں، تو وہ احادیث حوالہ کے ساتھ لکھ دیں،مہربانی ہوگی۔

جواب

واضح رہے کہ صاحب ترتیب کے احکام  نبی علیہ الصلاۃ و السلام کے  فعل سے ثابت ہیں، حضورﷺ نے غزوہ خندق کے موقع  پر فوت شدہ نمازوں کی قضا ترتیب سے لائی، اسی طرح  ابن عمرؓ فرماتے ہیں کہ:" جو شخص نماز  پڑھنا بھول گیا ہو،پھر امام کے ساتھ نماز پڑھتے ہوئے اس کو یاد آئے، تو پہلے امام کےساتھ والی نماز کوپڑھے، پھر اس نماز کو پڑھے جسے بھول  گیا تھا، پھر اس (امام کے ساتھ  پڑھی گئی) نماز کو اس کے بعد  دوبارہ پڑھے"چنانچہ حضورﷺ کی ترتیب کے ساتھ اول قضا نمازوں کی ادائیگی سے ترتیب ثابت ہوتی ہے، اسی طرح حضرت عبد اللہ ابن عمرؓ کے اس قول سے ترتیب کے وجوب کا ثبوت ملتا ہے  جو انہوں نے امام کے ساتھ پڑھی گئ نماز کے اعادہ کا حکم فرمایا ہے۔اسی طرح ترتیب تین چیزوں سے ساقط ہوتی ہے ، نسیان  کی حالت میں، وقت کی تنگی کی وجہ سے اور چھ  یا چھ سے زائد فوت شدہ نمازوں کی وجہ سے۔

نسیان کی حالت  میں  حضورﷺ کا ارشاد ہےکہ: "  جوشخص نماز کوبھول جائے، تو   جب اسےیاد آئےتو پڑھ لے"۔ اس حدیث میں یاد آنے کےوقت کو بھولے ہوئے نماز کا وقت قراردیا۔

 وقت کی تنگی کی وجہ سے  وقتی نماز کی تاخیر لازم آتی ہے،جب کہ وقتی نماز کو اپنے وقت میں  ادا کرنا کتاب اللہ سے ثابت ہے۔ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ"بے شک نماز مسلمانوں پر فرض ہے اپنے مقرر وقتو ں میں"۔

اسی طرح اگر فوت شدہ نمازیں چھ (6) سے زائد ہو جائیں، تو  اس سے بھی  چونکہ وقتی نما ز کی  تاخیرلازم آتی ہے، اور اس میں حرج  بھی ہےجس کا اٹھایا جانا  کتاب اللہ سے ثابت ہے، اللہ تعالی کا فرمان مبارک ہے کہ " اللہ تعالی تکلیف نہیں دیتا کسی کو ، مگر جس قدر اس کی گنجائش ہے" اسی طرح  حرج کے اٹھائے جانے پر امت  کا اجماع بھی ہے۔

صاحب ترتیب  کے فضائل کے بارے میں احادیث میں صراحتا کوئی تذکرہ نہیں ملا، جن میں بذات خود صاحب ترتیب کی فضیلت ثابت ہو، البتہ صاحب ترتیب وہ شخص ہوتا ہے، "جس سے بلوغ کے بعد چھ نمازیں فوت نہ ہوئی ہوں یا فوت  ہوئی ہوں ،تو  ان کی قضا پڑھ لی ہو"، گویا صاحب ترتیب شخص  پانچوں نمازوں کو پابندی سےادا کرنے والا ہوتا ہے، احادیث میں اس طرح اہتمام کے ساتھ نمازیں پڑھنے کے بکثرت فضائل موجود ہیں صاحب ترتیب ان سب فضائل کا مستحق ہوتا ہے۔

 

قَال الله عَزَّ وَجَلَّ: {‌لا ‌يُكَلِّفُ ‌اللَّهُ نَفْساًإِلَّا وُسعَهَا }.(البقرة:286(

وقال:{إِنَّ الصَّلَاةَ ‌كَانَتْ ‌عَلَى ‌المُؤمِنِينَ ‌كِتَاباً ‌مَّوْقُوتاً}.(النساء:103(

حَدَّثَنَا هَنَّادٌ قَالَ: حَدَّثَنَا هُشَيْمٌ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ نَافِعِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ، قَالَ: قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: «إِنَّ ‌المُشْرِكِينَ ‌شَغَلُوا رَسُولَ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم عَنْ أَرْبَعِ صَلَوَاتٍ يَوْمَ الخَنْدَقِ، حَتَّى ذَهَبَ مِنَ اللَّيْلِ مَا شَاءَ اللَّهُ، فَأَمَرَ بِلَالًا فَأَذَّنَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى الظُّهْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى العَصْرَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى المَغْرِبَ، ثُمَّ أَقَامَ فَصَلَّى العِشَاءَ»(جامع الترمذي، باب ماجاء في الرجل تفوته الصلاة بأيتهن يبدأ،رقم الحديث: 309، ج:1،ص:142)

 حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ، وَبِشْرُ بْنُ مُعَاذٍ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: «‌مَنْ ‌نَسِيَ ‌صَلَاةً فَلْيُصَلِّهَا إِذَا ذَكَرَهَا» (جامع الترمذي، كتاب الصلاة، باب ماجاء في الرجل ينسى الصلاة، رقم الحديث: 178، ج:1، ص:141)

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْوَاسِطِىُّ حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ هَارُونَ حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِىُّ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ إِذَا نَسِيَ أَحَدُكُمْ صَلاَةً فَلَمْ يَذْكُرْهَا إِلاَّ وَهُوَ مَعَ الإِمَامِ فَلْيُصَلِّ مَعَ الإِمَامِ فَإِذَا فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ فَلْيُصَلِّ الصَّلاَةَ الَّتِى نَسِيَ ثُمَّ لِيُعِدْ صَلاَتَهُ الَّتِى صَلَّى مَعَ الإِمَامِ ».(سنن الدار قطني، كتاب الصلاة، رقم الحديث:1544، ج: 1،ص: 400)

ويسقط الترتيب بصيرورةالفوائت ستاً ولو كانت متفرقةً. (رد المحتار على الدرالمختار، كتاب الصلاة، باب قضاء الفوئت، مطلب في تعريف الإعادة، ج:2، ص: 527)

وَالْحَرَجُ مَدْفُوعٌ بِالنَّصِّ حَيْثُ قَالَ تَعَالَى {وَمَا جَعَلَ عَلَيْكُمْ فِي الدِّينِ مِنْ حَرَجٍ} [الحج: 78]. (درر الحكام شرح مجلة الأحكام،الباب الأول: في بيان المسائل المتعلقة بعقد البيع، الفصل الثالث: في حق مجلس البيع، ج:1، ص:154)


فتویٰ نمبر : 9923/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں