بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 19/10/2026 |
دارالافتاء
حیات النبی سے متعلق جمہور اہل سنت کا عقیدہ
سوال
میرے اکثر رشتہ دار کہتے ہیں کہ عقیدہ حیات النبی پر تمہاراعقیدہ صحیح نہیں ، میرا عقیدہ اہل سنت والجماعۃ کا ہے، کہ حضرت نبی کریم خاتم النبیینﷺ پر وعدہ الٰہی انک میت و انھم میتون کے مطابق حقیقۃً موت واقع ہوئی، آپ کی روح اقدس جسد اطہر سے منقطع ہو کر جنت الفردوس میں رفیق اعلی کے ساتھ شامل ہوگئی۔ اور حضرات صحابہ کبار رضی اللہ عنھم نے آپ کے جسدِ اطہر کو واقعی میت سمجھ کر قبر میں دفن کیااور اس عالمِ دنیا سے انتقال کے بعد آنحضرت ﷺ کو عالمِ برزخ میں مثل شہداء بلکہ شہداء سے اعلی و ارفع حیاتِ برزخیہ عطا فرمائی گئی وہ حیات ِ دنیویہ نہیں بلکہ اس سے بدرجہا اعلی و ارفع وافضل حیاتِ برزخیہ ہے لیکن اگر کوئی اس(برزخی) حیات کو دنیوی کے نام سے تعبیر کرے اور آپ کی حیات برزخیہ سے بھی انکار نہ کرے تو اُس کو اہل سنت والجماعۃ سے خارج نہیں کرنا چاہئیے۔حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ و السلام اور خصوصا سید الانبیاء صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کو بعد الموت سب سے اعلیٰ وارفع واجمل وافضل حیاتِ برزخیہ عطا فرمائی گئی ہے کیا یہ جمہور اہل السنت والجماعۃ کا مسلک ہے؟
جواب
قرآن کریم کی آیات اور احادیث رسول ﷺ کی روشنی میں جمہور اہل سنت و الجماعۃ کا متفقہ عقیدہ ہے کہ حضورﷺ اور دیگرحضرات انبیاء کرام اپنی قبروں میں اجسام عنصریہ (یعنی روح و جسم کے باہمی تعلق) کے ساتھ زندہ ہیں اور عالم برزخ میں ان کی حیات دنیوی حیات سے کم نہیں ہے، برزخی حیات تو ہر انسان کو حاصل ہےجس کی بناء پر میت (روح و جسم)کو قبر میں راحت یا عذاب کا ادراک ہوتا ہےلیکن حضرات انبیاء کرام کی حیات سب سے اقوی وارفع ہے ، مختلف نصوص میں اس حیات کے مختلف آثار بیان ہوئے ہیں،لہذا مطلق حیا ت النبی ﷺ سے انکار کرناان نصوص سے انکارکی بنا پرگمراہی ہےتاہم اگر کوئی مطلق حیات النبی سے انکار نہیں کرتا ہو تو اس کو اہل سنت والجماعۃ سے خارج نہیں کہا جاسکتا ،نیز حضورﷺنے (کلّ نفس ذائقة الموت)اور بمطابق وعدہ (انك میت وانهم میتون) تھوڑی دیرکے لیے موت کامزہ چکھا، اورپھراللہ تعالیٰ نے آپ کوزندہ کردیا، اور زمین پرآپ کے جسم کوکھاناحرام کیا، پس آپ اب حیاتِ جسمانی کے ساتھ زندہ ہیں۔
سائل نےعقیدہ حیات النبی کے متعلق جو عقیدہ لکھاہےاس میں روح اور جسم کے تعلق کےبارے میں کوئی تصریح نہیں ہے اس کےمتعلق جمہور کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کریمﷺ اور انبیاء کرام کی روح مبارک مستقر تو اعلیٰ علیین میں ہے لیکن اس کے باوجود اس کا تعلق ،ربط اور اتصال قبر مبارک میں جسداطہرسے بھی ہے جس سے آپ ﷺ اور دیگرانبیاءکرام علیہم السلام کو ایسی حیات حاصل ہے کہ قبرکےپاس سلام کہنے والے کا سلام بنفس نفیس خود سنتے اور اس کا جواب دیتے ہیں لہذا بدن اور روح کے اس تعلق سے انکار نہیں کیا جاسکتا،ملا علی قاریؒ فرماتے ہیں کہ" حضورﷺ اپنی قبر میں زندہ ہیں جس طرح دیگر انبیاء کرام اپنی قبروں میں اور اپنے رب کے ہاں زندہ ہیں اور ان کے ارواح کا عالم علوی اور سفلی دونوں سے تعلق ہوتاہے جیسا کہ دنیامیں تھا۔پس وہ روح کے اعتبار سے عرشی اور جسم کے اعتبار سے فرشی ہیں۔"
علی بن عبد الله بن أحمد سمہودیؒ شافعی(م911ھ) فرماتےہیں کہ" دلائل اس بات کے مقتضی ہیں کہ یہ حیات ابدان کے ساتھ ہو مگر خوراک سے وہ مستغنی ہیں۔"
حضرت مولانا قاسم نانوتویؒ فرماتے ہیں کہ انبیاءکرامؑ کے اجسام زمین نہیں کھاتی،ان کے ازواج مطہرات سے نکاح حرام ہے اور ان کے اموال میں میراث جاری نہیں ہوتایہ تینوں باتیں اس امر کی صریح دلیل ہے کہ ارواح طیبہ کا اجسام سے تعلق منقطع نہیں ہوتا بلکہ موت کے بعد بھی انبیاء کرام ؑ کا اپنے بدن سےاسی قسم کا تعلق ہے جس قسم کا پہلے سے تھا۔(آب حیات،ص:42،43)
مولانا حسین احمد مدنیؒ فرماتے ہیں کہ:آپ کی حیات نہ صرف روحانی ہے جوکہ عام شہداء کوحاصل ہے بلکہ جسمانی بھی ہے اور (یہ حیات) دنیوی حیات سے بہت سے وجوہ سے قوی ترہے۔(مکتوبات شیخ الاسلام،ج:1،ص:13)
اس سے معلوم ہوا کہ انبیاء کرام کے ارواح کا تعلق جس طرح عالم علوی میں علین سے قائم ہے اس طرح عالم سفلیٰ یعنی قبورمیں بھی ان کے اجسام مبارکہ سےارواح کا تعلق ہےلہذا اس سے انکار کرنا یاانبیاء کرام علیہم السلام کے اجساد مبارکہ کو بالکل بے جان سمجھنا درست نہیں۔
عن أبي هريرة عنه قال قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: من صلى علي عند قبري سمعته ومن صلى علي نائيا أبلغته۔(رواه البيهقي فى شعب الايمان ، الفصل الثاني فى ذكر آثار و اخبار وردت فى ذكر ،ج:2،ص:218)
قال الشيخ خليل احمد فى شرحه:(إن الله عَزَّ وَجَلَّ حرم على الأرض) أي منعها (أجساد الأنبياء) أي من أن تأكلها،فإن الأنبياء في قبورهم أحياء۔(بذل المجهود شرح ابي داؤد ، بَابُ الإِجَابَةِ، أَيَّةُ سَاعَةٍ هِيَ في يَوْمِ الْجُمُعَةِ ،ج:5،ص:16)
والقرآن العزيز ناطق بموته صلى الله عليه وسلم قال تعالى:إنك ميت و إنهم ميتون و قال صلى الله عليه وسلم إني مقبوض وقال الصديق رضى الله عنه فإن محمدا قد مات وأجمع المسلمون على إطلاق ذالك فالوجه إذا ثبت القول المذكور أي يقال أن ذلك موت غير مستمر و أنه أحي بعد الموت.( شفاء السقام،للسبكي،ص:142)
وروح رسول الله صلى الله عليه وسلم صعدت إلى هناك في حال الحياة ثم عادت، وبعد وفاته استقرت في الرفيق الأعلى مع أرواح الأنبياء، ومع هذا فلها إشرافٌ على البدن وإشراقٌ وتعلُّقٌ به بحيث يردّ السلام على من سلَّم عليه.وبهذا التعلُّق رأى موسى قائمًا يُصلي في قبره ورآه في السماء السادسة، ومعلوم أنه لم يُعرَج بموسى من قبره ثم رُدَّ إليه، بل ذلك مقام روحه واستقرارها، وقبرُه مقام بدنه واستقراره إلى يوم معاد الأرواح إلى أجسادها؛ فرآه يصلي في قبره ورآه في السماء السادسة، كما أنه هو صلى الله عليه وسلم في أعلى مكان في الرفيق الأعلى مستقِرًّا هناك وبدنُه في ضريحه غير مفقود، وإذا سلّم عليه المُسلِّم رد الله عليه روحه حتى يردَّ عليه السلام ولم يفارق الملأ الأعلى.ومن كَثُف إدراكُه وغَلُظت طباعُه عن إدراك هذا فلينظر إلى الشمس في علو محلِّها، وتعلُّقها وتأثيرها في الأرض.(زاد المعاد،ج:3،ص:49)
هذا مع القطع بأن روحه الكريمة في الرفيق الأعلى في أعلى عليين مع أرواح الأنبياء وقد صح عنه أنه رأى موسى قائما يصلى في قبره ليلة الاسراء ورآه في السماء السادسة أو السابعة فالروح كانت هناك ولها اتصال بالبدن في القبر وإشراف عليه وتعلق به بحيث يصلى في قبره ويرد سلام من سلم عليه وهي في الرفيق الأعلى ولا تنافي بين الأمرين فإن شأن الأرواح غير شأن الأبدان.(كتاب الروح،المسألة السادسة وهي أن الروح هل تعاد إلى الميت في قبره وقت السؤال أم لا،ص:45)
المعتمد أنه صلى الله تعالى عليه وسلم حي في قبره كسائر الأنبياء في قبورهم وهم أحياء عند ربهم وأن لأرواحهم تعلقا بالعالم العلوي والسلفي كما كانوا في الحال الدنيوي فهم بحسب القلب عرشيون وباعتبار القالب فرشيون۔(شرح الشفاء،ملا علی قاری،ج:2،ص:143)
ولا شك في حياته صلى الله تعالى عليه وسلم بعد وفاته، وكذا سائر الأنبياء عليهم الصلاة والسلام أحياء في قبورهم حياة أكمل من حياة الشهداء التي أخبر الله تعالى بها في كتابه العزيز.(وفاء الوفاء،للسمهودي،ج:4،ص:179)
وأما أدلّة حياة الأنبياء فمقتضاها حياة الأبدان كحالة الدنيا، مع الاستغناء عن الغذاء.(وفاء الوفاء،للسمهودي،ج:4،ص:181)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 328
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 244
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 891
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 574
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 493
- خلع | فتاوئ : 49
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 59
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 476
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 176
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 410
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 7
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 152
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 62
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 322
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1191
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں