بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 19/10/2026

دارالافتاء

 

ایپ سے کمائی کا حکم


سوال

موبائل فون میں ایک ایپ (App) ہے جب ہم اس کو استعمال کرتے ہیں تو اس میں پہلے آئیڈی بناتے ہیں پھر اکاؤنٹ بناتے ہے جب اکاؤنٹ بنتا ہے تو 100ڈالر پہلے اکاؤنٹ میں جمع کرنا پڑتا ہے اور ان 100ڈالر سے پاکستانی 30000ہزار تقریبا بنتے ہیں پھر اس میں ایک سٹور کھل جاتا ہے اور اس میں ہر قسم اشیاء آپ کو دکھائے جاتے ہیں مثلاً گھڑی، موبائل-فون وغیرہ اشیاء اور ہرچیز کی قیمت مختلف ہوتی ہے اور دوسری بات یہ کہ آپ کو یہ دیکھائے جاتے ہیں کہ فلاں چیز کی قیمت اتنی ہے مثال طور ایک چیز 20ڈالر پر ہے جب آپ اس کو فروخت کرتے ہیں تو 22 ڈالر پر فروخت کرینگے یعنی 2ڈالر آپ کا منافع ہے اگر  میں نے 100ڈالر کے اشیاء خرید لیے تو میں ان چیزوں کو 3دن یا 4دن میں ضرور فروخت کرونگا جب میں اپنے اکاؤنٹ کو 3دن یا 4دن بعد دیکھتا ہوں تو میرے اکاؤنٹ میں 12ڈالر ہوتے ہیں یعنی یہ میرا وہ منافع  ہوتا ہیں تو کیا یہ بزنس جائز ہے کہ جائز نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ خرید و فروخت  کے جائز ہونے کی بنیادی شرطوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ  مبیع (جس  چیز کو بیچا جارہا ہے) حقیقت میں  موجود ہو، اور وہ مالِ متقوم ہو، محض فرضی چیز نہ ہو،اور خریدنے کے بعد  اس پر قبضہ کرکے ہی آگے فروخت کیا جاسکتا ہو اور اس پر قبضہ کرنا بھی ممکن ہو چاہے حقیقتا ہو یاحکما ،چناچہ  اگر حقیقتاً یاحکماً قبضہ نہ ہو  یاوہ چیزہی معدوم ہو تو اس کی بیع ناجائز ہے۔

صورت مسئولہ میں مذکورہ ایپ میں  جن اشیاء کی خرید وفروخت ہوتی ہے پہلے توفروخت کنندہ کے پاس ان اشیاء  کے موجود  ہونے کا کوئی قطعی علم نہیں اور اگر موجود ہوں  تو قبضہ کئے بغیر  ان کو فروخت کیا جاتا ہے اس لیے شرعا ًاس ایپ میں سرمایہ کاری کرنا جائز نہیں ،نیز ظاہری نوعیت کے لحاظ سے یہ ایپ محض ایک فراڈ نظر آرہا ہے اس لئے بہرحال اس سے اجتناب ضروری ہے ۔

 

وشرط المعقود عليه ستة كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه وكون الملك البائع فيما يبيعه لنفسه وكونه مقدور التسليم فلم ينعقد بيع المعدوم وماله خطر العدم۔  (رد المحتار،كتاب البيوع،ج4،ص505)

ومنها وهو شرط انعقاد البيع للبائع أن يكون مملوكا للبائع عندالبيع فإن لم يكن لا ينعقد وإن ملكه بعد ذلك بوجه من الوجوه إلا السلم خاصة وهذا بيع ما ليس عنده. (بدائع الصنائع،ج:5،ص:146)


فتویٰ نمبر : 5710/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں