بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

بالوں پر سیاہ خضاب لگانا


سوال

شریعت میں سر کے بالوں پر سیاہ خضاب لگانےکاکیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ کسی شخص کو اپنے جسم میں ایسے تصرفات کا حق حاصل نہیں جس کی وجہ سے اللہ تعالی کی خلقت میں تغیر اور دھوکہ دہی کا ارتکاب لازم آتا ہو یہی وجہ ہے کہ بغیر کسی شرعی عذر کے سیاہ خضاب لگانے سے احادیث مبارکہ میں ممانعت آئی ہے ،تاہم اگر کوئی شرعی عذر موجود ہو مثلا بوقت جہاد دشمنوں پررعب ڈالنے  کے لئے استعمال کرے تو شرعا  جائز ہے اسی طرح امام ابو یوسفؒ کے نزدیک بیوی کی دلجوئی کی خاطر بطور زینت بھی سیاہ خضاب لگانا جائز ہےليكن اكثر فقہائے کرام سے کراہت کا قول منقول ہے؛ اس لیے خالص سیاہ رنگ کے علاوہ دوسرے رنگ مثلا سیاہی مائل ،سرخ یابھورارنگ وغیرہ استعمال کرنا چاہیے۔

 

اتفق المشايخ رحمهم الله تعالى أن الخضاب في حق الرجال بالحمرة سنة وأنه من سيماء المسلمين وعلاماتهم وأما الخضاب بالسواد فمن فعل ذلك من الغزاة ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود منه، اتفق عليه المشايخ رحمهم الله تعالى ومن فعل ذلك ليزين نفسه للنساء وليحبب نفسه إليهن فذلك مكروه وعليه عامة المشايخ وبعضهم جوز ذلك من غير كراهة.(الفتاوی الهنديه،كتاب الكراهية،ج،5،ص:414)

(‌قوله ‌ويكره ‌بالسواد) أي لغير الحرب۔قال في الذخيرة: أما الخضاب بالسواد للغزو، ليكون أهيب في عين العدو فهو محمود بالاتفاق وإن ليزين نفسه للنساء فمكروه، وعليه عامة المشايخ، وبعضهم جوزه بلا كراهة روي عن أبي يوسف أنه قال: كما يعجبني أن تتزين لي يعجبها أن أتزين لها.(ردالمحتارعلى الدرالمختار،كتاب الحظروالاباحه،ج:6،ص:422)


فتویٰ نمبر : 5696/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں