بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 23/10/2026

دارالافتاء

 

کفریہ کلمات کے بعد تجديد نكاح اور اس کاطریقہ


سوال

میں اپنی  بیوی کے ماموں کے ساتھ بحث کر رہا تھا اور میں غصےمیں تھا تو میری زبان سے کچھ کفریہ الفاظ نکل گئے تھے جس پر میں نے توبہ بھی کرلی اور معافی بھی اللّٰہ تعالیٰ سے مانگی اور کلمہ بھی پڑ  ھ لیا ، میرے ان الفاظ پر اُن لوگوں نے فتویٰ لیا ہے کے آپ کا نکاح ٹوٹ گیا ہے آپ نے کفریہ الفاظ استعمال کئے ہيں ،اب میں اگر اپنی بیوی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہوں  اگر وہ راضی ہو تو کیسے ہوگا اور نکاح کا طریقہ کیا ہوگا کیا میرا دوبارہ نکاح  ہوسکتا ہےيا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اپنےاختیار سے کفریہ کلمات  ادا کرنے سے انسان دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے،خواہ وہ کلمات غصے میں کہے ہوں یا مذاق میں ایسے شخص کا نکاح ختم ہو جاتا ہے اور اس کے ذمے  لازم ہوتا ہے کہ فورا اپنے  اسلام  کی تجدید کرے ،نیز كوئی شادی شدہ مرد ایسا کلمہ کفر ادا کرے جس کی وجہ سے وہ ایمان سے نکل جائے تو اس کا نکاح بھی ٹوٹ جائے گا۔

چنانچہ ایسی صورت میں تجدید ایمان کے بعد میاں بیوی باہم رضامندی سے دوبارہ تجدید نکاح کریں گے اور  تجدید نکاح کا طریقہ یہ ہے کہ دو عاقل،بالغ، مسلمان مرد یا ایک مرد اور دو عورتوں کی موجودگی میں ایجاب وقبول کرلیں ، اس سے دوبارہ ان کا نکاح منعقد ہوجائےگا ۔

 

ما يكون كفرا اتفاقا يبطل العمل والنكاح، وما فيه خلاف ‌يؤمر ‌بالاستغفار والتوبة وتجديد النكاح وظاهره أنه أمر احتياط.( رد المحتار، على الدر المختار،باب المرتد،ج:4،ص:230)

‌النكاح ‌ينعقد ‌بالإيجاب والقبول... ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين.( الهداية في شرح بداية المبتدي،‌‌كتاب النكاح،ج:1،ص:185)

‌وإن ‌أخبرت المرأة أن زوجها قد ارتد لها أن تتزوج بآخر بعد انقضاء العدة في رواية الاستحسان وفي رواية السير ليس لها أن تتزوج قال شمس الأئمة السرخسي الأصح رواية الاستحسان.( الفتاوى الهندية،الباب الحادي عشر في القسم،ج:1،ص:340)


فتویٰ نمبر : 6867/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں