بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

نکاح میں گواہوں کا اجنبی ہونا


سوال

زید کو ایک عورت نے اپنا نکاح کا وکیل بنایا زید نے اس عورت سے دس دن بعد خود نکاح کر لیا دو ایسے  گواہوں کی موجودگی میں جو عورت کو جانتے بھی نہیں کیا اس طرح سے نکاح ہو جاتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ عقد نکاح میں گواہوں کی موجودگی ضروری ہے  لیکن گواہوں کا عاقدین کوجاننا  ضروری نہیں۔تاہم گواہوں کے لئے آزاد، عاقل،بالغ اور مسلمان  ہونا ضروری ہے۔

لہذاصورت مسؤلہ  کے مطابق اگر نکاح کے گواہان عاقدین کو پہلے سے جانتے ہوں تو نکاح کے وقت گواہان کے سامنے صرف ان کا نام لینا بھی کافی ہے، لیکن اگرگواہان ان دونوں کو پہلے سے نہیں جانتے ہوں توپھرمجلسِ نکاح میں نام اوروالدکانام لینابھی ضروری ہوگا، ورنہ نکاح درست نہیں ہوگا۔

 

قال: " ولا ينعقد نكاح المسلمين إلا بحضور شاهدين حرين عاقلين بالغين مسلمين رجلين أو رجل وامرأتين عدولا كانوا أو غير عدول أو محدودين في القذف".(الهداية، ج:2،ص:5)

وشرط في الشهود أربعة ‌الحرية ‌والعقل ‌والبلوغ ‌والإسلام فلا ينعقد بحضرة العبيد والمجانين والصبيان والكفار في نكاح المسلمين.( البحر الرائق شرح كنز الدقائق، ج:3، ص:95)

ثم قال في البحر: وإن كانت غائبة ولم يسمعوا كلامها بأن عقد لها وكيلها فإن كان الشهود يعرفونها كفى ذكر اسمها.(رد المحتار على الدر المختار،ج:3، ص:22)

امرأة وكلت رجلا ليزوجها من نفسه فقال الوكيل بحضرة الشهود: تزوجت فلانة ولم يعرف الشهود فلانة لا يجوز النكاح ما لم يذكر اسمها واسم أبيها وجدها؛ لأنها غائبة والغائبة تعرف بالتسمية، كذا في محيط السرخسي وكان القاضي الإمام ركن الإسلام علي السغدي في الابتداء لم يشترط ذكر الجد ثم رجع في آخر عمره وكان يشترطه وهو الصحيح وعليه الفتوى، كذا في المضمرات. (الهندية، كتاب النكاح، ج:1، ص:268)


فتویٰ نمبر : 6848/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں