بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 12/08/2026

دارالافتاء

 

کسی ایک وارث کامیت کے کپڑوں پر قبضہ کرنا


سوال

ایک عورت شادی کے چھ(6) ماہ بعد وفات ہوئی وفات کے بعد مرحومہ کی ماں نے مرحومہ کےکپڑوں پر قبضہ کیا،تو کیاان  کپڑوں میں دیگر ورثا کا حق ہے یا نہیں؟

جواب

شرعی نقطہ نظر سے وفات کے وقت میت کی ملکیت میں جو کچھ موجود ہو وہ سب اس کا ترکہ شمار ہوتا ہے، جسے ورثا کے مابین ان کے شرعی حصص کے بقدر تقسیم کیا جائے گا ۔تقسیم ترکہ سے پہلے کسی وارث کو یہ حق نہیں کہ وہ مشترکہ ترکہ میں سے دیگرورثا کی رضامندی کے بغیر کوئی تصرف کرے ،البتہ اگر سب  ورثا راضی ہوں تو ان کی رضامندی سے ترکہ میں تصرف کرنے کی اجازت ہے۔

صورتِ مسئولہ کے مطابق  مرحومہ کے ترکہ میں سب ورثا کاحق ہے لہذا مرحومہ کی والدہ کے لئے یہ جائز نہیں کہ وہ ترکہ میں سے  کپڑوں پر دیگرورثا کی رضامندی کے بغیر قبضہ کرلے  ۔

 

لأن تركة الميت ماتركه الميت من الأموال صافيا عن تعلق حق الغير بعين من الأموال.(ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الفرائض، ج:10 ص: 493)

يجوز لأحد أصحاب الحصص التصرف مستقلا في الملك المشترك بإذن الآخر ، لكن لايجوز له أن يتصرف تصرفا مضرا بالشريك، والإذن نوعان: صريح و دلالة، ففي الأول يتصرف الشريك بحصة شريكه كما أذنه سواء أضر أولم يضرفله أن يرهن ويبيع أو يهب.(شرح المجلة لسليم رستم باز،الكتاب العاشرفي أنواع الشركات،الماده: 1071، ص:600)


فتویٰ نمبر : 3540/297/323

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں