بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 25/10/2026 |
دارالافتاء
دلال كے لیے مارکیٹ ریٹ سے زیادہ رقم بطور اجرت مقرر کرنا
سوال
آج كل كاريگر دكاندار كے پاس گاہک لاتا ہے اور اس نے پہلے سے دکاندار سے بات کی ہوتی ہے کہ میں آپ کے پاس جو بھی گاہک لاؤں گااور اس پر تم جو چیز فروخت کروگے اس میں میرا بھی حصہ ہوگا، چنانچہ دکاندار گاہک پر وہ چیز مارکیٹ ریٹ سے کچھ زیادہ پر فروخت کرتاہے، تو جو زیادتی ہوتی ہے وہ کاریگر کو دے دیتا ہے تو کیا یہ جائز ہے یا نہیں؟
جواب
واضح رہے کہ خرید وفروخت کے معاملہ میں بائع اور مشتری کے مابین واسطہ بننے والے کوفقہ کی اصطلاح میں دلال کہتے ہیں، اور دلال کے لیے اجرت لینے کو فقہائے کرام نے جائز قرار دیا ہے، بشرطیکہ اجرت معلوم ومتعین ہو اورکسی قسم کا ابہام اور جہالت نہ ہو، چنانچہ اگر دلال کی اجرت مجہول ہوتو ایسی صورت میں یہ عقد فاسد ہوگا ۔
صورت مسئولہ کے مطابق کاریگر کی حیثیت دلال کی ہے اور اس کے لیے مارکیٹ ریٹ سے زیادہ رقم بطور اجرت مقرر کرنا شرعا جائز نہیں،کیونکہ ایسی صورت میں اجرت میں جہالت پائی جاتی ہے، البتہ کاریگر کے لیے متعین اجرت مقرر کرنا جائز ہے، خواہ متعین مقدار کے اعتبار سے ہویا فیصد کے اعتبار سے۔
وفي الحاوي: سئل محمد بن سلمة عن أجرة السمسار، فقال: أرجو أنه لا بأس به وإن كان في الأصل فاسدا لكثرة التعامل وكثير من هذا غير جائز، فجوزوه لحاجة الناس إليه كدخول الحمام وعنه قال: رأيت ابن شجاع يقاطع نساجاً ينسج له ثياباً في كل سنة.(رد المحتار على الدر المختار،كتاب الإجارة،باب ضمان الأجير،ج:9،ص:87)
وشرطها كون الأجرة والمنفعة معلومتين؛ لأن جهالتهما تفضي إلى المنازعة (الدرالمختار،کتاب الاجارۃ،ج 9،ص7)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 329
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 246
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 894
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 455
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 112
- کتاب النکاح | فتاوئ : 576
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 494
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 33
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 477
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 102
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 82
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 63
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 324
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1193
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 388
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں