بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم
| لاگ ان | 27/10/2026 |
دارالافتاء
واپڈا کے تاروں اور کھمبوں کو بجلی کی فراہمی کے لیے استعمال کرنا
سوال
ایک علاقے میں بجلی کی فراہمی کے لئے سرکاری ادارے واپڈا کی بچھائی ہوئی لائن جوکہ تقریبا سات سال سے بے کار پڑی ہے ، اس میں بجلی کی ترسیل مکمل بند ہوچکی ہے ، بیچ میں سے کھمبوں اور تاروں کو اتاردیا گیا ہے ،اور واپڈا نےاپنے میٹروں کو ہٹا دیا ہے ،اور بغیر کسی ضروری قانونی کاروائی کے بقیہ لائن بے کار چھوڑدی ہے ،چونکہ ہمارا علاقہ ایک پسماندہ علاقہ ہے، اور دور دراز دیہاتی بلکہ خیبر پختون خواہ کامشکل گزار پہاڑی علاقہ ہے ،اب خیبر پختون خواہ حکومت نے کسی نجی تنظیم کی معاونت سے علاقائی سطح پر چھوٹے ،چھوٹے جزیٹر لگائے ہیں،جو پانی کی مدد سے چلتے ہیں ،اور ان سے کچھ بجلی پیدا ہوتی ہے،اور کسی نہ کسی درجے میں علاقائی ضرورت پوری کرتی ہے ، اب مقامی لوگوں نے جمع ہوکر بجلی کی ترسیل کے لئے واپڈا کی اجازت کے بغیر واپڈا کی بچھائی ہوئی وہی معطل سپلائی لائن سے کھمبے اور تار اتار کر انہی تاروں او کھمبوں کو استعمال کرکے اپنے لئے پانی کے جزیٹر سے بجلی لگائی ہے ،اور یہ جواز پیش کیا کہ چونکہ یہ اسی علاقے کے لئے مختص تھے ، جس سے اہل علاقہ کو فائدہ کوئی نہیں تھا ، اور لائن بھی ناکارہ معطل شدہ تھی ، اب اگر وہی تاراور کھمبے ان سے بن پوچھے سب لوگوں کی اتفاق رائے سے اسی علاقے کے لئے حکومت ہی کی مہیا کئے ہوئے پانی والے جزیٹر سے بجلی کی ترسیل کے لئے استعمال ہو تو کیاحرج ہے ؟بہر حال اب پوچھنا یہ ہے کہ:1۔ واپڈا کی اجازت کے بغیر ان تاروں اور کھمبوں کو اسی محلہ کے لوگوں کے لیے استعمال کرنا درست ہے یانہیں ؟2۔متعلقہ محکمہ کی اجازت سے درست ہے یانہیں؟3۔ اگر درست نہیں تو بدرجہ مجبوری یعنی اور کوئی صورت نہ ہو بجلی ملنے کی تو اس کی گنجائش ہوگی یانہیں؟
جواب
واپڈا ايک سرکاری محکمہ ہے ، واپڈا کا مال حکومت کی ملکيت ہے،اگر حکومت نے کسی علاقے میں بجلی فراہم کی لیکن بعد میں کسی وجہ سے منقطع ہوگئی ، اور اس کے بعد اب حکومت نے دوسرے ذریعے سے بجلی کی فراہمی شروع کی ،تو ایسی صورت میں اگر متعلقہ ادارہ صراحت کے ساتھ اس پرانے لائن کے استعمال سے منع نہ کرے ، تو اہل علاقہ کے اجتماعی مفاد میں اس کو استعمال کرنے کی گنجائش ہے ، کیونکہ سات سال تک ان تاروں اور کھمبوں کو علاقے میں رہنے دینا ،اور بعد میں دوسرے ذرائع سے بجلی کی فراہمی بظاہر اس بات کی دلیل ہے کہ اہل علاقہ کے لئے ان تاروں اور کھمبوں کےاستعمال کی حکومت کی طرف سے اجازت ہے، البتہ اس بات کا خیال رکھنا ضروری ہے کہ سرکاری تاروں اور کھمبوں کو اجتماعی مفاد کے لیے بجلی کی فراہمی میں ہی استعمال کیا جائے اس کے علاوہ ذاتی استعمال میں نہ لایا جائے جو کہ ناجائز ہے۔
(لا عبرة للدلالة في مقابلة التصريح) لأن دلالة الحال في مقابلة التصريح ضعيفة، فلا تعتبر مقابلة للتصريح القوي. (دررالحكام في شرح مجلة الأحكام، لا عبرة للدلالة في مقابلة التصريح ، المادة:13، ج:1، ص:31 )
الإذن دلالة كالإذن صراحة. بيد أنه عند وجود النهي صراحة لا اعتبار بالإذن دلالة. مثلا إذا دخل رجل بيت آخر فهو مأذون دلالة بشرب الماء بالإناء المخصوص له. وإذا سقط من يده وهو يشرب وانكسر لا يلزم الضمان. ولكن إذا أخذه بيده مع أن صاحب البيت نهاه بقوله: لا تمسه فسقط وانكسر يصير ضامنا. (مجلة الأحكام العدلية، ص: 146،المادة :772)
(ويثبت) الإذن (صريحا) كما إذا قال لعبده أذنت لك بالتجارة (ودلالة بأن رأى عبده يبيع ويشتري فسكت) ولم يمنعه منه فسكوته إذن له في التجارة. (مجمع الأنهر، كتاب المأذون، ج:2، ص:446)
تلاش
تلاش
- کتاب العقائد | فتاوئ : 331
-
کتاب الطّہارۃ | فتاوئ : 248
-
کتاب الصلوۃ | فتاوئ : 907
- نمازوں کے اوقات
- اذان واقامت کے احکام
- نمازکاطریقہ اورشرائط وارکان
- نمازکے واجبات
- نمازتوڑنے والے کام
- نمازکومکروہ بنانے والے کام
- سُترہ کے احکام
- امامت اورجماعت کے مسائل
- وترکے احکام
- سُنن اورنوافل
- تراویح
- سجدہ سہوکے احکام
- سجدہ تلاوت کے احکام
- نمازِجمعہ
- نمازِعیدین
- مسافرکی نماز
- مریض اورمعذورکی نماز
- فوت شدہ نمازوں کی قضا
- استسقاء اورکسوف وخسوف کی نماز
- احکامِ میت اورنمازِجنازہ
- باب زلۃ القاری
- ادعیہ
- کتاب الزکوٰۃ | فتاوئ : 458
- کتاب الصوم | فتاوئ : 91
- کتاب الحج | فتاوئ : 113
- کتاب النکاح | فتاوئ : 578
- کتاب الطلاق | فتاوئ : 499
- خلع | فتاوئ : 50
-
ظہار | فتاوئ : 6
-
ایلاء | فتاوئ : 4
-
ثبوتِ نسب | فتاوئ : 7
-
نفقات | فتاوئ : 34
-
حضانت(بچوں کی پرورش کاحق) | فتاوئ : 36
-
عدت کے احکام | فتاوئ : 60
-
کتاب الشرکۃ(شرکت کے احکام) | فتاوئ : 88
- کتاب البیوع(خریدوفروخت) | فتاوئ : 479
-
کتاب الربا(سودکے احکام) | فتاوئ : 103
-
کتاب الکفالۃ(ضمانت،گارنٹی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المضاربۃ(مضاربت کے احکام) | فتاوئ : 78
-
کتاب القرض والدین | فتاوئ : 83
-
کتاب الودیعۃ والامانۃ(امانت کے احکام) | فتاوئ : 22
-
کتاب الھبۃ(تحفہ کے احکام) | فتاوئ : 177
-
کتاب الاجارۃ(کرایہ داری اورملازمت کے احکام) | فتاوئ : 413
-
کتاب الشفعۃ | فتاوئ : 22
-
کتاب الرھن(گروی کے احکام) | فتاوئ : 8
-
کتاب المزارعۃوالمساقاۃ(مزارعت اورباغبانی کے احکام) | فتاوئ : 32
-
کتاب الصید(شکارکے احکام) | فتاوئ : 3
-
کتاب الذبائح(جانوروں کے ذبح کرنے کے احکام) | فتاوئ : 8
- کتاب الاضحیۃ والعقیقۃ(قربانی اورعقیقہ کے مسائل) | فتاوئ : 199
-
کتاب القسمۃ(تقسیم کے احکام) | فتاوئ : 5
-
کتاب اللقطۃ واللقيط(گری پڑی چیزيابچےکے متعلق احکام) | فتاوئ : 18
- کتاب الایمان والنذور(قسموں اورمنت کے احکام) | فتاوئ : 154
- کتاب القصاص والحدود والدیۃ | فتاوئ : 64
-
کتاب السیروالجہاد | فتاوئ : 2
- کتاب القضاء | فتاوئ : 19
-
کتاب الوکالۃ | فتاوئ : 43
-
کتاب الغصب | فتاوئ : 3
- کتاب الجنایات | فتاوئ : 34
- کتاب الوقف | فتاوئ : 328
-
کتاب الحظروالاباحۃ(حلال وحرام کے احکام) | فتاوئ : 1203
- کھانے پینے کے احکام
- لباس کے احکام
- حجاب کے احکام
- بالوں کے احکام
- زیب وزینت کے مسائل
- ولیمہ کے مسائل
- ناموں کابیان
- ختنہ کابیان
- حلال وحرام کمائی کے مسائل
- علاج معالجہ اوردواؤں کے احکام
- دم ،تعویذاورذکرواذکارکے مسائل
- سلام اورمصافحہ کے مسائل
- تصاویرکے مسائل
- لہولعب،کھیل کود اورمزاح کے مسائل
- شعروشاعری کے مسائل
- جانورپالنے کے احکام
- دیگرمتفرق مسائل
- صدقات نافلہ
-
کتاب الوصیۃ | فتاوئ : 34
- کتاب الفرائض(میراث کے مسائل) | فتاوئ : 391
-
کتاب الشہادۃ (گواہی کے احکام) | فتاوئ : 18
-
کتاب الماذون | فتاوئ : 1
سوال پوچھیں
اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے
سوال پوچھیں