بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

گائے میں شركت کی ایک صورت


سوال

ایک شخص نے گائے خریدی اور دوسرے شخص کو پالنے کے لیے دی کہ اس کو چرائے، اس کےکھانے وغیرہ کا خیال رکھے اور اس گائے سے حاصل ہونے والا دودھ وغیرہ بھی(یہ دوسرا جو پال رہا ہے) لے، اس کے بعد جب گائے بیچیں گے ،تو جتنا منافع ہوگا وہ مالک اور دوسرے شخص میں برابر تقسیم ہوگا.کیا ایسا معاملہ کرنا شرعا جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ اس طرح معاملہ کرنا  جس میں ایک شخص اپنی گائے دوسرے کو اس طور پر دےدے کہ دوسرا شخص اس کے چارے وغیرہ کا خیال رکھے اوربیچنے کی صورت میں جتنا نفع آئے گا وہ  دونوں کے مابین آدھا آ دھا تقسیم ہوگا ،یہ کسی جائز عقد کے تحت داخل نہیں ۔ البتہ اس معاملے کی درستگی کی جائز صورت یہ ہوسکتی ہےکہ  ابتداءً  جانور کی قیمت لگائی جائے، اور پھر نصف جانور دوسرے(پالنے والے) کو بیچ دے پھر چاہے اس سے نصف جانور کی قیمت وصول کرے یا اس کو معاف کرے ،اور پھر اس سے یہ کہے کہ تم اس جانور کی دیکھ بال کرو، ایسی صورت میں بیچنے کے بعد حاصل ہونے والی مالیت دونوں کے مابین آدھی آدھی تقسیم ہوگی۔

 

"وعلى هذا إذا دفع البقرة إلى إنسان بالعلف، ‌ليكون ‌الحادث ‌بينهما نصفان، فما حدث فهو لصاحب البقرة، ولذلك الرجل مثل علفه الذي علفها، وأجر مثل ما قام عليها؛ لأنه غير متبرع في ذلك حيث شرط لنفسه نصف الحادث. . . والحيلة أن يبيع نصف البقرة من ذلك الرجل، ونصف الدجاجة ونصف بذر العلق بثمن معلوم حتى تصير البقرة وأجناسها مشتركة بينهما، فيكون الحادث منهما على الشركة.( المحيط البرهاني،كتاب الشركة،‌‌الفصل السادس،ج:6،ص:46)


فتویٰ نمبر : 3464/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں