بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 24/10/2026

دارالافتاء

 

نفع اور راس المال واپس دینے میں جنس راس المال کے اعتبار کا حکم


سوال

زید نے عمرو کو پچاس لاکھ پاکستانی روپے دے کر کسی کاروبار میں دونوں کے درمیان شراکت داری اس طرح قائم ہوئی کہ عمرو نے پہلے زید کے پچاس لاکھ پاکستانی کرنسی کے عوض افغانی کرنسی خرید لی پھر افغانی کرنسی کو طے شدہ کاروبار میں لگایا؟ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ  عمرو زید کو نفع اور  راس المال کونسی کرنسی سے اداء کریگا، پاکستانی کرنسی سے یا افغانی کرنسی سے؟

جواب

فقہاے کرام کی تصریحات کے مطابق ایک شخص کے سرمایہ اور دوسرے کی محنت سے چلنے والا کاروبار"عقد مضاربت "کہلاتا ہے۔ اس عقد کے لیے ازروئے شرع کچھ شرائط مقرر ہیں ،جن کی رعایت ضروری ہے، ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ عقد مضاربت کی ابتداء ہی سے منافع کی تعیین کی جائے اورمضاربت کے اختتام پر  مضارب کے لیے سرمایہ کو اسی جنس میں تبدیل کرکے ادا کرنا ضروری ہے جس میں راس المال لیا تھا۔

 صورت مسئولہ کے مطابق مضاربت کی صورت میں  اگر نفع کی شرح مقرر کی گئی ہو تو عمرو کے لیے متعین  شرح کے مطابق   اسی  جنس میں سے دینا ہوگا جس میں راس المال لیا تھا۔

نیز زید نے چونکہ پاکستانی روپے دیے تھے ،اس لیے مضاربت کے اختتام پر  اگر عمرو کے پاس افغانی کرنسی ہو  تو اس کو پاکستانی  روپے میں تبدیل کرکے نفع اور سرمایہ دینا لازم ہوگا ،لیکن پھر بھی اگر زید اپنی مرضی سے 50 لاکھ روپے کے بقدر افغانی کرنسی لینا چاہے تو اس کی بھی گنجائش ہے۔

 

"وإذا مات المضارب ومال المضاربة في يديه، وعليه دين...وكذلك لو كان الذي  في يديه دنانير والمضاربة دراهم باع الوصي الدنانير، فأعطى رب المال رأس ماله وحصته من الربح، وقسم حصة المضارب بين غرمائه، فإن أراد رب المال أن يأخذ من الدنانير بقدر رأس ماله وحصته من الربح فأعطاه الوصي فذلك جائز".(‌‌الأصل لمحمد بن الحسن الشيباني،كتاب المضاربة،‌‌ باب إقرار المضارب بالمضاربة في الصحة والمرض،ج:4،ص:281)

"(وإن كان) مال المضاربة (نقدا من جنس رأس المال) أي مال عقد المضاربة حين أعلمه بعزله (لا يتصرف) المضارب (فيه) أي النقد لعدم الحاجة إليه وهو معزول (وإن) كان المال (من غير جنسه) أي غير جنس رأس المال (فله) أي للمضارب (تبديله بجنسه) أي إذا كان رأس المال دراهم وهو معزول ومعه دنانير له بيعها بالدراهم (استحسانا) لأن الواجب للمضارب أن يرد مثل رأس المال، وهو يتحقق برد جنسه فكان له تبديله بجنسه ضرورة".(مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر،كتاب المضاربة،ج:2،ص:331)


فتویٰ نمبر : 3470/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں