بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مسجد ویران کاحکم


سوال

ہمارے گاؤں میں پرانے زمانے میں قوم کے مشران نے مشترکہ طور پر کھیتوں کے ایک طرف میں تقریبا ایک مرلہ جگہ نماز کیلئے مختص کی اور بعد میں اس پر مسجد کی شکل میں پکی آبادی بھی کرلی لیکن یہ معلوم نہیں کہ مشران نے اس جگہ کو وقف کیا تھا یا نہیں اور اب بھی وہ مسجد ویران اور اس کی آبادی گری پڑی ہے. بعض بزرگوں سے معلوم کیا تو انہوں نے کہا کہ اس مسجد کا کوئی مستقل امام نہیں تھا اور نہ ہی اس میں مستقل طور پر اذان واقامت ہوئی ہے،البتہ بعض اوقات کچھ لوگ نماز کے وقت جمع ہوتے تو کسی ایک شخص کو امامت کیلئے آگے کرتے،لہذا پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسی جگہ کو مسجد کے علاوہ کسی اور نیک مقصد کیلئے جیسے مدرسہ یا دینی کتب کی لائبریری کیلئے استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ اگر کسی چیز کی حقیقت حال کے بارے میں قطعی طور پر کسی کو معلومات نہ ہو ں تو اس کو اس کی سابقہ حالت پر چھوڑا جائے گا ۔

لہذا صورت مسئولہ  میں اگر مذکوہ جگہ کے بارے میں  قطعی طورپریہ معلوم نہ ہو کہ یہ جگہ مسجد کے لیے وقف ہوئی تھی یانہیں تو چونکہ پہلے سے اس جگہ مسجد بنی ہوئی ہے اس لیے اس کو مستقل طور پر مسجد ہی قرار دیا   جائے گا،اور کسی اور مصرف میں اس کا استعمال  جائز نہیں ۔

 

‌القديم ‌يترك ‌على ‌قدمه. يعني: أن القديم الموافق للشرع يجب أن يترك على حال القديم ما لم يثبت خلافه؛ لأن بقاء ذلك الشيء مدة طويلة دليل على أنه مستند على حق مشروع.( درر الحكام في شرح مجلة الأحكام، الماده:6،ج:1،ص:24،)

[" ‌الْقَدِيم ‌يتْرك ‌على ‌قدمه "] إِلَّا إِذا قَامَ الدَّلِيل على خِلَافه...الْقَدِيم: هُوَ الَّذِي لَا يُوجد من يعرف أَوله...وَمعنى هَذِه الْقَاعِدَة أَن الْمُتَنَازع فِيهِ إِذا كَانَ قَدِيما تراعى فِيهِ حَالَته الَّتِي هُوَ عَلَيْهَا من الْقَدِيم، بِلَا زِيَادَة وَلَا نقص وَلَا تَغْيِير وَلَا تَحْويل وَإِنَّمَا لم يجز تَغْيِير الْقَدِيم عَن حَاله أَو رَفعه بِدُونِ إِذن صَاحبه لِأَنَّهُ لما كَانَ من الزَّمن الْقَدِيم على هَذِه الْحَالة الْمُشَاهدَة فَالْأَصْل بَقَاؤُهُ على مَا كَانَ عَلَيْهِ (شرح القواعد الفقهية،ص:95)


فتویٰ نمبر : 5699/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں