بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

بدعتی امام کے پیچھے نمازپڑھنا


سوال

ہماری ڈیوٹی ہسپتال میں ہوتی ہے کبھی ایک میں  کبھی دوسرے ہسپتال میں ہوتی ہے۔اب چونکہ تقریباً ہر ہسپتال میں مسجد ہوتی ہے اور امام کا پتہ نہیں چلتا کہ کس عقیدے کاہے ۔تو کیا ان کے پیچھے نماز ہوتی ہے کہ نہیں؟ کیا میں اکیلا نماز پڑھوں یا ان اماموں کے پیچھے پڑھوں؟

جواب

اس میں کوئی شک نہیں کہ جماعت کی نماز کسی صحیح راسخ العقیدہ ،اور با عمل عالم دین کے پیچھے پڑھنا افضل ہےاور اس کے برعکس کسی بدعتی،جاہل اور فاسق فاجر کی اقتدا میں نماز پڑھنے کی وہ قدر وقیمت برقرار نہیں رہتی،اس لیے فقہائے کرام نے ایسے شخص کو مستقل طور پر امام بنانا مکروہ تحریمی قرار دیا ہے۔

 لہٰذا صورت مسئولہ کے مطابق اگر کسی امام کے عقیدے کا پتہ نہ ہو ،تو اس کے پیچھے نماز ہوجائے گی امام کے بارے میں خواہ مخواہ کھودکرید اور معلومات لینے کی ضرورت نہیں۔

 

لكن في وتر البحر إن تيقن المراعاة لم يكره، أو عدمها لم يصح، وإن شك كره...(قوله إن تيقن ‌المراعاة لم يكره إلخ) أي ‌المراعاة في الفرائض من شروط وأركان في تلك الصلاة وإن لم يراع الواجبات والسنن... أن الاقتداء بالمخالف المراعى في الفرائض أفضل من الانفراد إذ لم يجد غيره، وإلا فالاقتداء بالموافق أفضل (ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلاة،باب لامامة،ج:1،ص:563،564)

قال المرغینانی:تجوز الصلوٰۃ خلف صاحب ھوی وبدعۃ،ولا تجوز خلف الرافضی والجھمی والقدری والمشبھۃومن یقول بخلق القرآن،وحاصلہ:ان کان ھوی لا یکفربہ صاحبہ،تجوز الصلوٰۃ خلفہ مع الکراھۃ،والا فلا۔۔۔ولو صلی خلف مبتدع أو فاسق فھو محرز ثواب الجماعۃ،لکن لا ینال مثل ما ینال خلف تقی۔(الفتاوی الھندیۃ،کتاب الصلوٰۃ،الباب الخامس،الفصل الثالث،ج:1،ص:141)


فتویٰ نمبر : 9904/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں