بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

کئی میتوں پر ایک ساتھ نماز جنازہ پڑھنے کا طریقہ


سوال

نمازہ جنازہ کے لئے اگر دو میتیں لائی جائےجس میں ایک خاتون اورایک مرد کی ہو تو ان دونوں کی نمازہ جنازہ ایک ساتھ اد ہوجائے گی یا الگ سے ادا کرنی چاہیئے،اگر ایک ساتھ ادا کرنا جائز ہو تو اس کا طریقہ کار کیا ہوگا؟

جواب

اگر ایک ہی وقت میں کئی جنازے جمع ہوجائیں تو بہتر یہ ہے کہ سب کی نماز ِ جنازہ الگ الگ پڑھی جائے ،البتہ اگر سب جنازوں کی ایک ساتھ نماز پڑھی جائے تب بھی جائز ہے جس کا بہتر طریقہ یہ ہے کہ امام سے قبلہ کی طرف یکے بعد دیگرےجنازوں کو اس طرح رکھ  دیا جائے کہ  سب کے پیر ایک طرف ہوں اور سب کے سر ایک طرف ہوں تاکہ  سب کا سینہ امام کے مقابل ہوجا ئے جوکہ مسنون ہے اور اگر جنازے مختلف اصناف  کے ہوں، تو اس ترتیب سے ان کو رکھا جائے کہ امام کے قریب مردوں کے جنازے ، ان کے بعد لڑکوں کے  اور ان کے بعد بالغہ عورتوں کے اور ان کے بعد نابالغ لڑکیوں کے رکھے جائیں۔

 

(وإذا اجتمعت الجنائز ‌فإفراد ‌الصلاة) على كل واحدة (أولى) من الجمع وتقديم الأفضل أفضل (وإن جمع) جاز، ثم إن شاء جعل الجنائز صفا واحدا وقام عند أفضلهم، وإن شاء (جعلها صفا مما يلي القبلة) واحدا خلف واحد (بحيث يكون صدر كل) جنازة (مما يلي الإمام) ليقوم بحذاء صدر الكل وإن جعلها درجا فحسن لحصول المقصود (وراعى الترتيب) المعهود خلفه حالة الحياة، فيقرب منه الأفضل فالأفضل الرجل مما يليه؛ فالصبي فالخنثى فالبالغة فالمراهقة؛ والصبي الحر يقدم على العبد، والعبد على المرأة.(الدر المختار مع رد المحتار،باب صلاۃ الجنازۃ،ج:2،ص:219)


فتویٰ نمبر : 9893/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں