بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 20/10/2026

دارالافتاء

 

اجاره فاسدہ کی ایک صورت


سوال

اگر کوئی کسی کو گریزی(illegal) کا مال کرایہ پر دے (چاہیے مال کاٹن کی صورت میں ہو یا پارسل کی صورت میں یا کوئی بھی صورت ہو ) کہ وہ فلان جگہ سے فلان جگہ تک پہنچائے مثلاً چمن باڈر سے کوئٹہ تک پہنچائے یا کوئٹہ سے کراچی تک پہنچائے یا کراچی سے لاہور تک تو اس میں بہت سارے خطرات لاحق ہوتے ہے مثلاً گریزی (illegal) کا مال حکومت وقت کسی بھی وقت غصب کرلیتی ہے یعنی زبردستی چھین لیتی ہے تو اب پوچھنا یہ ہے کہ اس کا تاوان کس پر آئیگا ۔ کیونکہ کرایہ 1000 ہے اور تاوان اس مال کی قیمت ہے جوکہ 25000  ہے ۔ اور اگر اس شرط کے ساتھ میں مال اسکو کرایہ پر دو کہ اگر پگڑا گیا تو وہ ضامن ہوگا نقصان کا ، تو کیا یہ شرط لگانا عقد میں صحیح ہوگا یا نہیں اور ذمہ داری کی شرط میں کرایہ بھی بڑھ جاتا ہے مثلاً اگر کرایہ 1000 ہو تو وہ 2000 لیتا ہے ذمہ داری کی شرط کی وجہ سے کیونکہ اگر یہ شرط نہ لگائی تو لوگ صحیح سے مال نہیں پہنچاتے اس میں غفلت کرتے ہیں؟

جواب

واضح رہے  کہ جب ایک  شخص دوسرے  کے لئے اجرت پر عمل کرتا ہےتو اس کو عقد اجارہ کہا جاتاہے، کام کرنے والےاجیر کہتے ہیں اور جس کے لئے کام کرتا ہے اس کو مستاجر کہتے ہے ۔ اجیر کے پاس مستاجر کامال امانت ہوتا ہے اور امانت میں شریعت کی طرف سے اصول یہ ہے کہ اگر امانت  امین کے غفلت اور تعدی کے بغیر ہلاک ہوجائے توامین ضامن نہیں البتہ اگر امین کی تعدی یا غفلت کی وجہ سے ہلاک ہوا تو اس  صورت میں امین ضامن ہوگا۔اور  ایسی شرط سے عقداجارہ فاسدہوتاہے  جو مقتضائے عقد کے خلاف ہو اور اس میں موجر یا مستاجر کا فائدہ ہو۔

صورت مسؤلہ کے  مطابق ایک جگہ سے دوسری جگہ مال  پہنچانا اور اس پر اجرت لینا  عقد اجارہ ہے اس میں  اگر اجیر بہرحال اپنے ضامن بننے کی شرط لگاتاہےتو اس سے عقد اجارہ فاسد ہوگااور اجیراجرت مثل کا مستحق بنے گا نیز اس کی تعدی کے بغیر اگر نقصان پہنچے تو اس پر کوئی تاوان نہ ہوگا۔

 

 "الإجارة: عقد على المنافع بعوض" لأن الإجارة في اللغة بيع المنافع، والقياس يأبى جوازه؛ لأن المعقود عليه المنفعة وهي معدومة، وإضافة التمليك إلى ما سيوجد لا يصح إلا أنا جوزناه لحاجة الناس إليه.(الهداية، ج:3، ص:230)

تفسد الإجارة بالشروط المخالفة لمقتضى العقد فكل ما أفسد البيع) مما مر (يفسدها) كجهالة مأجور أو أجرة أو مدة أو عمل، وكشرط طعام عبد وعلف دابة ومرمة الدار أو مغارمها وعشر أو خراج أو مؤنة رد أشباه.(رد المحتار على الدر المختار، ج:6، ص:47)

‌لأن ‌طاعة ‌الإمام ‌فيما ‌ليس بمعصية واجبة وهذا ليس بمعصية.(البحرالرائق، ج:2، ص:173)


فتویٰ نمبر : 3469/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں