بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

بغیر نیت طلاق کے بیوی کو کنائی الفاظ کہنا


سوال

میری والدہ اور میری بیوی کمرے میں بیٹھی ہوئی تھیں کہ میں بھی کمرے میں داخل ہوگیا،تو میری والدہ نے مجھے کہا کہ آ پ کی بیوی کہہ رہی ہے کہ مجھے یہ شوہر پسند نہیں ہے،(یعنی میں اسےپسند نہیں ہوں)تومیں نےغصہ میں آکر بیوی سے کہا :(دے  خپل مور پلور وه كور ته لوڑه شه)کہ ''جاو اپنے والدین کے گھر''  یہ جملہ میں نے بیوی کوڈرانے کے لیے کہاتھا ،اس جملہ سے میری    طلاق کی کوئی نیت  نہیں تھی ،تو کیا  طلا ق واقع ہوئی ہے یا نہیں ؟رہنمائی فرمائیں ۔

جواب

واضح رہے کہ  طلاق کے کنائی الفاظ میں نیت معتبر ہوتی ہے،نیز غصہ کی حالت میں  ایسے الفاظ کہنا جو اپنے آپ سے بيوی کو دور کرنے کے معنی رکھتے ہوں اور نیت اس میں طلاق کی نہ ہو تو ایسے کنائی الفاظ سے طلاق واقع نہ ہوگی۔

صورت مسئولہ کے مطابق سائل کا بیوی سے یہ جملہ کہنا کہ(دے خپل مور پلور وہ کور ته لوڑہ شه)  یعنی'' جاؤ اپنے والدین کے گھر'' یہ کنائی الفاظ ہیں ،اگر  یہ الفاظ کہتے وقت طلاق کی نیت نہیں تھی تو ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی ۔

 

وقوله الحقي بأهلك يحتمل الطلاق لأن المرأة تلحق بأهلها إذا صارت مطلقة، ويحتمل الطرد والإبعاد عن نفسه مع بقاء النكاح وإذا احتملت هذه الألفاظ الطلاق وغير الطلاق فقد استتر المراد منها عند السامع، فافتقرت إلى النية لتعيين المراد. (بدائع الصنائع، كتاب الطلاق، فصل في الكناية في الطلاق، ج:3، ص:105)

والكنايات ‌ثلاثة ‌أقسام: ‌قسم ‌منها ‌يصلح ‌جوابا ‌ولا ‌يصلح ‌ردا ‌ولا ‌شتما، ‌وهي ‌ثلاثة ألفاظ: أمرك بيدك، اختاري، اعتدي، ومرادفها، وقسم يصلح جوابا وشتما ولا يصلح ردا، وهي خمسة ألفاظ: خلية، برية، بتة، بائن، حرام، ومرادفها، وقسم يصلح جوابا وردا ولا يصلح سبا وشتما؛ وهي خمسة أيضا: اخرجي، اذهبي، اغربي، قومي، تقنعي، ومرادفها، ففي حالة الرضا لا يقع الطلاق بشيء منها إلا بالنية، والقول قوله في عدم النية، وفي حالة مذاكرة الطلاق يقع بكل لفظ لا يصلح للرد وهو القسم الأول والثاني، وفي حالة الغضب لا يقع بكل لفظ يصلح للسب والرد وهو القسم الثاني والثالث، ويقع بكل لفظ لا يصلح لهما بل للجواب فقط وهو القسم الأول. كما في الإيضاح.(اللباب في شرح الكتاب،ج:3،ص:44، المكتبة العلمية، بيروت ، لبنان)


فتویٰ نمبر : 6840/297/324

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں