بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

داڑھی کی گستاخی کرنے والے کا حکم


سوال

ایک سترہ سالہ لڑکے نے اپنے دوست کو کہا کہ آپ کی  داڑھی کے بال تو مقعد کے بال جسے ہیں ،تو ایسے الفاظ کہنے کا کیا حکم ہے؟ جب کہ لڑکا غیر شادی شدہ ہو۔

جواب

داڑھی رسول ﷺاور تمام انبیاءکرام علیہم السلام کی سنت اور شعائر اسلام میں سے ہے ، اور داڑھی رکھناہر مسلمان پر واجب ،اس کی گستاخی کرنا اور مذاق اڑانا دراصل سنت اور شعائر اسلام کا مذاق ارانا ہے جو کہ کفر تک پہنچادینے والا عمل ہے۔

لہذا صورت مسئولہ میں اگرلڑکے کا  مذکورہ الفاظ" آپ کے داڑھی کے بال تو مقعد کے بال جسے ہیں" کہنے سے مراد داڑھی کی سنت کا مذاق اڑانا ہو،تو اس پرتجدید ایمان  لازم ہے،اور اگر سنت کا مذاق اڑانا مقصود نہ ہو  ،بلکہ مقصود مخاطب پر عصہ نکالنا ہو ،اور اس کو گالیاں  دینا مقصود ہو ، تو اس سے  لڑکا   کافرنہیں ہوا  ،البتہ سخت گناہ گار ہوگا،اس پر توبہ اور استغفارلازم ہوگا۔

‌

وفي الفتح من ‌هزل ‌بلفظ ‌كفر ارتد وإن لم يعتقده للاستخفاف فهو ككفر العناد...ثم قال ولاعتبار التعظيم المنافي للاستخفاف كفر الحنفية بألفاظ كثيرة، وأفعال تصدر من المنتهكين لدلالتها على الاستخفاف بالدين كالصلاة بلا وضوء عمدا بل بالمواظبة على ترك سنة استخفافا بها بسبب أنه فعلها النبي صلى الله عليه وسلم زيادة أو استقباحها كمن استقبح من آخر جعل بعض العمامة تحت حلقه أو إحفاء شاربه اهـ. قلت: ويظهر من هذا أن ما كان دليل الاستخفاف يكفر به، وإن لم يقصد الاستخفاف لأنه لو توقف على قصده لما احتاج إلى زيادة عدم الإخلال بما مر لأن قصد الاستخفاف مناف للتصديق.( رد المحتار، على الدر المختار،باب المرتد،ج:4،ص:222)


فتویٰ نمبر : 5687/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں