بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

ہنڈی کے کاروبار کا شرعی حکم


سوال

ہنڈی کا کاروبار پاکستانی قانون کے مطابق درست نہیں ۔ شرعی نقطہ نظر سے اس کا کیا حکم ہے ؟  ہنڈی کا کاروبار شرعی اصولوں کے مطابق کس طریقے سے کیا جا سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ ملکی قانون جب شریعت کے اصول سے متصادم نہ ہو،تو اس کی پاسداری شرعا بھی ضروری ہوتی ہے  ۔نیز ریاستی قوانین رفاہ عامہ کے لیے ہوتے ہیں، اور ہر شہری کا اپنی ریاست سے  یہ معاہدہ ہوتا ہے کہ ہر وہ قانون جو قرآن اور سنت کے مطابق ہو اس کا پابند رہے گا ۔

 ہنڈی کا کاروبار چونکہ ملکی قانون کی رو سے ممنوع ہے، اس لیے غیر قانونی طور پر اس کا  کاروبار کرنا  ناجائز  ہے۔    

 

قال الله تعالى:﴿يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُوٓاْ أَطِيعُواْ ٱللَّهَ وَأَطِيعُواْ ٱلرَّسُولَ وَأُوْلِي ٱلۡأَمۡرِ مِنكُمۡۖ﴾.(النساء: 59).

"عن ابن عمر رضي الله عنهما، عن النبي صلى الله عليه وسلم، قال:«السمع والطاعة حق ما لم يؤمر بالمعصية، فإذا أمر بمعصية، فلا سمع ولا طاعة»".(صحيح البخاري، كتاب الأحكام،باب السمع والطاعة للإمام ما لم تكن معصية،رقم الحديث:2955، ج:4،ص:49)

"لا بد من قبض أحدهما ليخرج العقد عن الكالىء بالكالىء".(الهداية، كتاب الصرف،تعریفه،ج:3،ص:81)

"قال وإذا عدم الوصفان الجنس والمعنى المضموم إليه حل التفاضل والنساء لعدم العلة المحرمة".(الهداية، كتاب البيع، باب الربو، ج:3،ص:61)


فتویٰ نمبر : 3463/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں