بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 08/09/2026

دارالافتاء

 

مدرسہ کے لیے وقف زمین کو واپس کرنا


سوال

والد صاحب 1998میں ریٹائر ہوئے۔تو پنشن کے پیسوں سے مدرسہ بنالیا۔دوکنال کاپلاٹ پہلے سے لیا  ہوا تھا۔اس میں ایک کنال زمیں مدرسہ کے نام وقف کردی۔ایک کنال یا کچھ مرلے ایک بھائی کے نام پراب بھی موجود ہے۔ مدرسہ کچھ عرصہ چلا۔سال دوسال۔پھر بند ہوا۔کیونکہ آمدن نہیں تھی ۔اور والد صاحب بھی بیمار تھے ۔چلانے والا کوئی  نہیں رہا۔ عمارت خراب ہورہی تھی۔لہذا فیصلہ کیاگیا۔کہ کسی غریب کو رہنے کے لیے دی جائے ۔اب فی سبیل اللہ مدرسہ کی عمارت میں غریب لوگ آباد ہیں ۔ اب چونکہ یہ پلاٹ بازار کے ساتھ نزدیک ہے۔قیمتی ہے۔مدرسہ بھی نہیں رہا۔اور نہ ہی دوبارہ آباد ہونے کا چانس ہے۔تو کیا اس وقف شدہ پلاٹ کو واپس کرسکتے ہیں۔کہ ہمارے بھائیوں کی ملکیت بنےاور اپنے درمیان تقسیم کر دیں۔

جواب

واضح رہے کہ جب کوئی زمین مدرسہ یا قبرستان وغیرہ کے لیے وقف کی جائے اور وہ وقف تام ہو جائے ، تو اس وقف شدہ زمین کو بیچنا ، ہبہ کرنا یا کسی کو مالک بنانا جائز نہیں ہے۔ یاد رہے کہ وقف تام ہونے کے لیے ضروری ہے کہ موقوفہ چیز کو اس مقصد کے لیے کم از کم ایک مرتبہ استعمال کیا جائے جس کے لیے اس کو وقف کیا گیا ہو۔

صورت مسئولہ کے مطابق جب ایک کنال زمین میں مدرسہ بن گیا اور کچھ عرصہ چلا بھی تو وقف تام ہونے کی وجہ سے واقف کے بیٹوں کی طرف یہ زمین منتقل نہیں ہو سکتی ۔ لہذا یہ مدرسہ  ہی رہے گا ، اگر واقف کی اولاد  اس کو چلانے سے عاجز ہوں تو کسی دوسرے معتمد شخص کو متولی بنا کر اس کے حوالہ کر دیں۔

 

‌وإذا ‌صح ‌الوقف لم يجز بيعه ولا تمليكه.(كتاب الوقف، باب ‌‌شروط الوقف، ج:3، ص:18)

(‌فإذا ‌تم ‌ولزم لايملك ولا يملك ولا يعار ولا يرهن)قال ابن عابدين:(قوله: لا يملك) أي لا يكون مملوكا لصاحبه ولا يملك أي لا يقبل التمليك لغيره بالبيع ونحوه لاستحالة تمليك الخارج عن ملكه. (ردالمحتارعلى الدرالمختار، كتاب الوقف، مطلب في وقف المرتد والكافر، ج:4، ص:351)

والحاصل: أن التسليم على قول من يشترط التسليم وهو قول محمد يكون بإحدى طريقتين: إما بإثبات اليد للقيم عليها، أو لحصول المقصود وذلك بالسكنى في مسألة الدار وبالنزول في مسألة الخان وبالدفن في مسألة المقبرة وما أشبه ذلك. (الفتاوى التاتارخانية ، ج:8، ص:185)


فتویٰ نمبر : 5693/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں