بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 13/08/2026

دارالافتاء

 

وطن اصلی کی تبدیلی


سوال

وطن اصلی کسے کہتے ہیں اس کی وضاحت فرمائیں کیونکہ ہم کو ایک ضلع سے منتقل ہوئے 15 سال گزر گئے اور غمی خوشی کےلئے اپنے آبائی علاقے میں جانا پڑتا ہے حتی کہ مردوں کو آبائی علاقے میں دفناتے ہیں اور آبائی علاقے میں ہماری زمین اور گھر بھی ہیں لیکن مستقبل  رہنے کا ارادہ آبائی گاؤں  کا نہیں تو اب ہمیں اپنے آبائی علاقے میں قصر نماز پڑھنی ہوگی یا پوری؟

جواب

واضح رہے کہ وطن اصلی انسان کا وہ مقام ہوتا ہے،جہاں وہ اپنے اہل وعیال کے ساتھ مستقل طور پر رہ رہا ہو ،لہذا کسی جگہ محض زمین اور گھر کے  رہ جانے سے وطن اصلی باقی نہیں رہتا،نیز وطن اصلی چھوڑنے کے لیے  مستقل عزم کا ہونا ضروری ہے۔

صورت مسئولہ کے مطابق اگر غمی خوشی کےلیے اپنے آبائی علاقے جانا پڑتا ہو ،لیکن   اپنے اہل و عیال کے ساتھ   مستقل طور پر دوسری جگہ رہائش اختیار کی ہوتو  آبائی علاقے میں محض زمین اور گھر کےموجود  ہونے  سےوہ  وطن  اصلی باقی نہیں رہتا،لہذا  وہاں مسافر کے حکم میں ہوکر قصر کرےگا ۔

 

(الوطن الأصلي) هو موطن ولادته أو تأهله أو توطنه (يبطل بمثله) إذا لم يبق له بالأول أهل، فلو بقي لم يبطل بل يتم فيهما.(ردالمحتار على الدرالمختار،كتاب الصلوة،باب صلوة المسافر،مطلب في الوطن الأصلي ووطن الإقامة،ج:2،ص:132)

ولا يزال على حكم السفر حتى ينوي الإقامة في بلدة.(الفتاوى الهندية،كتاب الصلوة،الباب الخامس عشر في صلاة المسافر،ج:1،ص:139)


فتویٰ نمبر : 9895/297/321

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں