بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 22/10/2026

دارالافتاء

 

گدھے کا گوشت اور چمڑا فروخت کرنا


سوال

ہم اپنی ایک چینی شراکت دار جس کے پاس گدھوں کی برآمد کا لائسنس موجود ہے کے ذریعے گدھوں کی کھال اور گوشت چین بھیجنا چاہتے ہیں۔کیا اس میں حصہ دار بننا جائز ہے یانا جائز؟

جواب

واضح رہے کہ خنزیر  کے علاوہ حرام  جانورمثلاً گدھے وغیرہ کو شرعی اصولوں کے مطابق ذبح کرنے سےاس کا گوشت اور چمڑا اگرچہ حلال نہیں ہوتا لیکن پاک ہوجاتا ہے، نیزا حناف کے ہاں خنزیر کے علاوہ کسی بھی جانور کی کھال دباغت دینے سے پاک ہو جاتی ہے خواہ اس کا ذبح شرعی نہ بھی ہوا ہو،پس گوشت اور چمڑے کے پاک ہونے کے بعدان کوکھانے کے علاوہ دیگر  ضروریات میں  استعمال کرنایافروخت کرنا جائزہے، نیز اگر کوئی غیر مسلم کے ساتھ کاروباری شراکت کرنا   چاہے، تو جائز ہےبشرطیکہ مسلمان کا دینی لحاظ سے کوئی نقصان نہ ہو اور مسلمانوں کی طاقت و قوت بھی اس سے متاثر نہ ہوتی ہو اور کاروبار میں شرعی اصولوں کالحاظ رکھا جاتا ہو۔

صورت مسؤلہ کے مطابق سائل کا چینی شراکت دارکے ساتھ گدھے کے گوشت اور چمڑے فروخت کرنے میں حصہ دار بننا جائز ہے بشرطیکہ گدھے کا گوشت وچمڑاذبح شرعی کے بعد حاصل کیا جائے،ذبح شرعی کے بغیر اس کا گوشت فروخت کرنا اسی طرح دباغت کے بغیر اس کا چمڑا فروخت کرناجائز نہیں۔

 

"ويجوزبيع لحوم السباع، والحمرالمذبوحة في الرواية الصحيحة...وأما جلودالسباع، والحمر. والبغال، فما كانت مذبوحة، أومدبوغة جاز بيعها. ومالا، فلا. "(الفتاوى الهندية، كتاب البيوع، الفصل الخامس في بيع المحرم الصيد، وفي بيع المحرمات، ج:3، ص:115)


فتویٰ نمبر : 3522/297/322

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں