بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

لاگ ان 21/10/2026

دارالافتاء

 

شکار کے لیے زندہ جانور کو حیلہ بنانا


سوال

باز کا شکار کرنے کے لیے ایک چھوٹے زندہ پرندہ کو استعمال کیا جاتا ہے مثلاً کبوتر کو رسی سے باندھ کر اڑایا جاتا ہے پھر بعض اوقات باز اس کبوتر کو زخمی کر دیتا  ہے اور بعض اوقات وہ مر بھی جاتا ہے ، اسی طرح شکاری حضرات بعض اوقات اس چھوٹے پرندے کو اپنے قابو میں رکھنے کے لیے اس کی آنکھیں سلائی کر کے بند بھی کر دیتے ہیں، اس طرح شکار کرنا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

فقہاے کرام نے کسی زندہ جانور کے ذریعے باز وغیرہ کوتعلیم دینا مکروہ قرار دیا ہے ،کیو نکہ اس کی وجہ سے وہ زندہ جانور تکلیف میں مبتلا ہوتا ہے۔

لہذا صورت مسئولہ کے مطابق شکار کرنے لیے زندہ پرندوں کو استعمال کرنا ،اور ان کی انکھیں سلائی کر کے بند کرنا جائز  نہیں  اس سے اجتناب کرنا چاہیے۔

 

عن جابر: « أن النبي صلى الله عليه وسلم ‌مر ‌عليه ‌حمار قد وسم في وجهه فقال: لعن الله الذي وسمه.».( صحيح مسلم،‌‌باب النهي عن ضرب الحيوان في وجهه ووسمه فيه،ج:6،ص:163)

‌ويكره ‌تعليم ‌البازي بالصيد الحي يأخذه ويعذبه ولا بأس بأن يعلم بالمذبوح كذا في محيط السرخسي.( الفتاوى الهندية،الباب الثالث والعشرون في الغيبة والحسد والنميمة والمدح،ج:5،ص:362)


فتویٰ نمبر : 5692/297/328

دارالا فتاء جامعہ عثمانیہ پشاور



تلاش

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے یہاں کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن کا وقت بھی لگ جاتا ہے

سوال پوچھیں